غموں سے میں اگر آزاد ہو جاتا تو اچھا تھا
خدا وندا! کبھی میں شاد ہو جاتا تو اچھا تھا
بہ ہنگامِ وداع اس نے کیا پیماں بہاروں کا
اسے وعدہ، وہ اب بھی یاد ہو جاتا تو اچھا تھا
فلک حساس ہوتا تو اسے احساس تو ہوتا
وہ خود بھی شاد اور ناشاد ہو جاتا تو اچھا تھا
غموں سے میں اگر آزاد ہو جاتا تو اچھا تھا
خدا وندا! کبھی میں شاد ہو جاتا تو اچھا تھا
بہ ہنگامِ وداع اس نے کیا پیماں بہاروں کا
اسے وعدہ، وہ اب بھی یاد ہو جاتا تو اچھا تھا
فلک حساس ہوتا تو اسے احساس تو ہوتا
وہ خود بھی شاد اور ناشاد ہو جاتا تو اچھا تھا
میں اپنا نام اور اپنا مقام جانتا ہوں
جو شخص کرتا ہے مجھ کو سلام جانتا ہوں
وہ کیوں کرتا ہے مِرا احترام؟ جانتا ہوں
میں اس کے دل میں ہے جو کچھ تمام جانتا ہوں
وہ آ رہا ہے سدا شہر میں قتال کے بعد
امیرِ شہر کا میں انصرام جانتا ہوں
چاہا نہیں تھا جن کو وہی بے طلب ملے
"ملنا تھا جن سے وہ نہ ملے اور سب ملے"
رت جب جواں تھی زیست کی وہ ہم سے کب ملے
پت جھڑ کے موسموں میں مِرے یار اب ملے
جو ہر جگہ ہو اس کے لیے جستجو ہی کیا
دَیر و حرم میں شیخ! کہاں تجھ کو رب ملے؟
کچھ ہیں مذہب کے جنوں میں غرق کچھ ذاتوں میں ہیں
دشمنانِ قوم ہر سُو مختلف گھاتوں میں ہیں
اک بہانہ ہے رسائی کا امیرِ شہر تک
ہم کو آپس میں لڑا کر خود ملاقاتوں میں ہیں
تیرے لہجے کی کھنک سے جُھومتی ہے انجمن
کس قدر رعنائیاں جاناں! تِری باتوں میں ہیں
جہاں والو! مجھے بدنام کر لو
میری بدنامیوں کو عام کر لو
جناب شیخ! تم یہ کام کر لو
تبرا مجھ پہ صبح و شام کو لو
محبت ہے مجھے سچائیوں سے
میری رُسوائیوں کو عام کر لو