Showing posts with label عبدالخالق تاج. Show all posts
Showing posts with label عبدالخالق تاج. Show all posts

Monday, 9 October 2023

غموں سے میں اگر آزاد ہو جاتا تو اچھا تھا

 غموں سے میں اگر آزاد ہو جاتا تو اچھا تھا

خدا وندا! کبھی میں شاد ہو جاتا تو اچھا تھا

بہ ہنگامِ وداع اس نے کیا پیماں بہاروں کا

اسے وعدہ، وہ اب بھی یاد ہو جاتا تو اچھا تھا

فلک حساس ہوتا تو اسے احساس تو ہوتا

وہ خود بھی شاد اور ناشاد ہو جاتا تو اچھا تھا

Wednesday, 21 June 2023

میں اپنا نام اور اپنا مقام جانتا ہوں

 میں اپنا نام اور اپنا مقام جانتا ہوں

جو شخص کرتا ہے مجھ کو سلام جانتا ہوں

وہ کیوں کرتا ہے مِرا احترام؟ جانتا ہوں

میں اس کے دل میں ہے جو کچھ تمام جانتا ہوں

وہ آ رہا ہے سدا شہر میں قتال کے بعد

امیرِ شہر کا میں انصرام جانتا ہوں

Tuesday, 20 June 2023

چاہا نہیں تھا جن کو وہی بے طلب ملے

 چاہا نہیں تھا جن کو وہی بے طلب ملے

"ملنا تھا جن سے وہ نہ ملے اور سب ملے"

رت جب جواں تھی زیست کی وہ ہم سے کب ملے

پت جھڑ کے موسموں میں مِرے یار اب ملے

جو ہر جگہ ہو اس کے لیے جستجو ہی کیا

دَیر و حرم میں شیخ! کہاں تجھ کو رب ملے؟

Tuesday, 13 June 2023

کچھ ہیں مذہب کے جنوں میں غرق کچھ ذاتوں میں ہیں

 کچھ ہیں مذہب کے جنوں میں غرق کچھ ذاتوں میں ہیں

دشمنانِ قوم ہر سُو مختلف گھاتوں میں ہیں

اک بہانہ ہے رسائی کا امیرِ شہر تک

ہم کو آپس میں لڑا کر خود ملاقاتوں میں ہیں

تیرے لہجے کی کھنک سے جُھومتی ہے انجمن

کس قدر رعنائیاں جاناں! تِری باتوں میں ہیں

Saturday, 10 June 2023

جہاں والو مجھے بدنام کر لو

 جہاں والو! مجھے بدنام کر لو

میری بدنامیوں کو عام کر لو

جناب شیخ! تم یہ کام کر لو

تبرا مجھ پہ صبح و شام کو لو

محبت ہے مجھے سچائیوں سے

میری رُسوائیوں کو عام کر لو