غموں سے میں اگر آزاد ہو جاتا تو اچھا تھا
خدا وندا! کبھی میں شاد ہو جاتا تو اچھا تھا
بہ ہنگامِ وداع اس نے کیا پیماں بہاروں کا
اسے وعدہ، وہ اب بھی یاد ہو جاتا تو اچھا تھا
فلک حساس ہوتا تو اسے احساس تو ہوتا
وہ خود بھی شاد اور ناشاد ہو جاتا تو اچھا تھا
ہمارے آشیاں کو جس ستمگر نے جلا ڈالا
نشیمن اس کا بھی برباد ہو جاتا تو اچھا تھا
گریباں دیکھ کر اپنے تئیں وحشت سی ہوتی ہے
نہ ہوتا میں کوئی ہمزاد ہو جاتا تو اچھا تھا
ہمیشہ تاج صحنِ دل کوئی ویرانہ لگتا ہے
یہ بنجر بھی کبھی آباد ہو جاتا تو اچھا تھا
عبدالخالق تاج
No comments:
Post a Comment