Showing posts with label ظہور نظر. Show all posts
Showing posts with label ظہور نظر. Show all posts

Monday, 21 February 2022

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی

 رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی

مے خانہ بھی ویراں ہے کلیسا بھی حرم بھی

لُوٹا ہے زمانے نے مِرا بیش بھی کم بھی

چھینا تھا تجھے، چھین لیا ہے تِرا غم بھی

بے آب ہُوا اب تو مِرا دیدۂ نم بھی

اے گردش عالم تو کسی موڑ پہ تھم بھی

Sunday, 23 August 2020

میری گردن نہ جھکی تن سے جدا بھی نہ ہوئی

میری گردن نہ جھکی، تن سے جدا بھی نہ ہوئی
خوش خدا بھی نہ ہوا،۔ خلقِ خدا بھی نہ ہوئی
غیر تو تھے ہی، مِرے یار بھی ناراض ہوۓ
مصلحت بھی نہ ہوئی مجھ سے ریا بھی نہ ہوئی
ہر نفس روح میں زنجیر رہا خوفِ قفس
قید میں بھی نہ رہی جان، رہا بھی نہ ہوئی

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے

حیات وقفِ غمِ روزگار کیوں کرتے
میں سوچتا ہوں کہ وہ مجھ سے پیار کیوں کرتے
نہ میری راہ میں تارے، نہ میرے پاس چراغ
وہ میرے ساتھ سفر اختیار کیوں کرتے؟
نگاہ صرف بلاوہ نہیں کچھ اور بھی ہے
یہ جانتے تو تِرا اعتبار کیوں کرتے

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہُوں
پھر اس کی وفا کا منتظر ہوں
اک بار نہ جس نے مڑ کے دیکھا
اس جانِ صبا! کا منتظر ہوں
بیٹھا ہوں درونِ‌‌ خانۂ غم
سیلابِ بلا کا منتظر ہوں

Thursday, 7 December 2017

جانِ من جان جاں

جانِ من، جانِ جاں
حکم ہے اس لیے
کر رہا ہوں بیاں
تو نے پوچھا ہے میں
کیسے جیتا ہوں اب
کیسے کٹتا ہے دن

پاگل پن

پاگل پن

میرا دایاں ہاتھ، بائیں ہاتھ کو
کاٹنے میں رات دن مصروف ہے
صحن سے دہلیز تک
خون کے دھبوں کی شطرنج بچھی ہے، جس پہ موت
سینکڑوں چہرے بکھیرے، زندگی کو مات دینے کے نشے میں مست ہے

نیا چوراہا​

نیا چوراہا​

قد آور آئینے لے کر
بونوں کا مخلوط جلوس ابھی گزرا ہے
لمبے لمبے بالوں والا اک دانشور
بازی گر کے بانس پہ چڑھ کر
گردن کی سب نسیں پھلائے چیخ رہا ہے

Thursday, 22 September 2016

چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں

چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں 
کس قدر گنجان جنگل تھا رہا کچھ بھی نہیں 
خاکِ پائے یاد تک گِیلی ہوا نے چاٹ لی 
عشق کی غرقاب بستی میں بچا کچھ بھی نہیں
آبنائے درد کے دونوں طرف ہے دشتِ خوف 
اب تو جان دینے کے سوا کچھ بھی نہیں 

جب اس کے در سے میں اٹھا ملال کوئی نہ تھا

جب اس کے در سے میں اٹھا ملال کوئی نہ تھا
کہ میری جھولی میں باقی سوال کوئی نہ تھا ‌‌‌
بہار آئی تو، اپنا سِوائے زِنداں کے
تمام شہر میں پُرسانِ حال کوئی نہ تھا
وہ دن ہی ٹھیک تھے، جب دل میں رُت بدلنے کا
گمان و خواب، یقین و خیال کوئی نہ تھا

جس جگہ تیز ہواؤں نے اتر جانا ہے

جس جگہ تیز ہواؤں نے اتر جانا ہے 
پوچھو ان سے نہ یہ ہم سے کہ کدھر جانا ہے
گامزن ہو تو گئے ایک سفر پر، لیکن
کچھ نہ معلوم ہمیں یہ کہ کدھر جانا ہے
کوئی اطراف بھی موجود نہ ہو میرے سوا
چاند پر چاند کی گاڑی سا اتر جانا ہے

اپنی توہین نہ کر میرا تماشا نہ بنا

اس کا محبوب کہ تھا
صرصرِ دشتِ وفا کا جھونکا
اس کی آغوش کو وا
اس کے شبستان کو کھلا چھوڑ گیا
سالہا سال کے بعد
ایک دن ایک بھری بزم کی تنہائی میں
اس نے اس حسنِ سیہ پوش کو چپکے سے کہا

Wednesday, 30 December 2015

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی 
تم نے ہمیں دیوانہ کہا ہے، ایسی تو کوئی بات نہ تھی   
اب یہ تمہارا کام کہ جانو، ہم پروانے تھے یا دیپ 
دن بِیتا تو جلتے جلتے، جلتے جلتے رات کٹی  
لے کے کتنے ہاتھ نہ جانے ان کے سجیلے دامن پر 
کل تک تھے ہم چاک گریباں ان سے پوچھے آج کوئی

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں

قحطِ وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں
زوروں پہ احتیاطِ دل و جاں ہے ان دنوں
مطعون ہیں جو موسمِ گل کے جنوں میں ہیں
متروک رسمِ چاک گریباں ہے ان دنوں
یہ رسمِ رفتگاں تھی، فراموش ہو گئی
اپنے کیے پہ کون پشیماں ہے ان دنوں

Sunday, 14 December 2014

عشق میں معرکے بلا کے رہے

عشق میں معرکے بلا کے رہے 
آخرش ہم شکست کھا کے رہے 
یہ الگ بات ہے کہ ہارے ہم
حشر اک بار تو اٹھا کے رہے 
سفرِ غم کی بات جب بھی چلی
تذکرے تیرے نقشِ پا کے رہے 

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی
میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی
زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی
جستجو میری بھی دشمن تھی، عدو اس کی بھی تھی
میری باتوں میں بھی تلخی تھی سمِ تنہائی کی
زہر شہنائی میں ڈوبی گفتگو اس کی بھی تھی

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری
بس یہی غنیمت ہے، تیرے بعد شب گزری
کنجِ غم میں اِک گُل بھی کِھل نہیں سکا پورا
اس بلا کی تیزی سے صرصرِ طرب گزری
تیرے غم کی خوشبو سے جسم و جاں مہک اٹھے
سانس کی ہوا جب بھی چُھو کے میرے لب گزری

Thursday, 6 March 2014

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں

دِیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترکِ محبت، ترکِ تمنا، کر چُکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں