Sunday, 23 August 2020

میری گردن نہ جھکی تن سے جدا بھی نہ ہوئی

میری گردن نہ جھکی، تن سے جدا بھی نہ ہوئی
خوش خدا بھی نہ ہوا،۔ خلقِ خدا بھی نہ ہوئی
غیر تو تھے ہی، مِرے یار بھی ناراض ہوۓ
مصلحت بھی نہ ہوئی مجھ سے ریا بھی نہ ہوئی
ہر نفس روح میں زنجیر رہا خوفِ قفس
قید میں بھی نہ رہی جان، رہا بھی نہ ہوئی
صاحبو! ان کو تو مجبورِ خوشامد نہ کرو
جن سے محبوب کی توصیف و ثنا بھی نہ ہوئی
نام بے راہ روی میں بھی نہ چمکا اپنا
کام کی ہم سے کوئی لغزشِ پا بھی نہ ہوئی
سفرِ دشت پہ ہم شہر سے تنہا نکلے
ابر تو تھا ہی کہاں؟ ساتھ ہوا بھی نہ ہوئی
آج یوں شیشۂ دل💔 گنبدِ جاں میں ٹوٹا
گونج تو گونج کوئی صَوت و صدا بھی نہ ہوئی
مندمل زخم کا ہونا تھا مقدر، ورنہ
تم دوا پوچھتے ہو، ہم سے دعا بھی نہ ہوئی
کچھ کہیں پر تھا غلط آج ، کہ مِل کر اس سے
دل بھی سالم رہا، مجروح انا بھی نہ ہوئی
تہمتِ جرمِ جفا کیسے اٹھائیں کہ نظر
ہم غریبوں سے تو جی بھر کے وفا بھی نہ ہوئی

ظہور نظر

No comments:

Post a Comment