مجھے شوقِ دید میں پا کے گم وہ نقاب الٹ کے جو آ گئے
نظر اور کچھ بھی نہ آ سکا وہ میری نظر میں سما گئے
کہاں اپنی ایسی تلاش تھی کہاں اپنی تھی ایسی جستجو
یہ تیرے کرم ہی کی بات ہے تیری بارگاہ میں آ گئے
مجھے تیر آراہوں کا غم نہیں میں گزر ہی جاؤں گا ہم نشیں
وہ دکھا کے مجھ کو رخِ مبیں میرے دل کی شمع جلا گئے