Saturday, 7 August 2021

تیری آنکھوں سے پینے کی جسے بھی آرزو ہو گی

 تیری آنکھوں سے پینے کی جسے بھی آرزو ہو گی

میرے ساقی اسے کیا حسرت جام و سبو ہو گی

تیری ہستی اگر خود بزم میں اے شمع رو ہو گی

ہر اک دل کو فدا ہونے کی تجھ پہ آرزو ہو گی

تصور میں وہ آئیں گے تو پوری آرزو ہو گی

وہ میرے پاس ہوں گے اور ان سے گفتگو ہو گی

مزا تو بندگیِ عشق کا اس وقت آئے گا

تیرے نقش قدم ہوں گے جبین آرزو ہو گی

تمہیں کو دیکھ کر غنچے چمن میں مسکراتے ہیں

تمہارے بعد کس کو احتیاج رنگ و بو ہو گی

ہمارا قصۂ غم سنتے سنتے ڈوب جائیں گے

شب فرقت ستاروں سے جب اپنی گفتگو ہو گی

اجل کے ساتھ ہی وہ بھی اگر تشریف لے آئے

تو پھر ایک ایک نفس کی زندگی کو آرزو ہو گی

بہت نزدیک ہے وہ دن کہ جب دنیا کے ہونٹوں پر

میرا افسانہ ہو گا اور میری گفتگو ہو گی

پس مُردن زمانہ ڈھونڈتا ہے مرنے والوں کو

ہمارے بعد دنیا کو ہماری جستجو ہو گی

جہاں سے بھی ہم اپنی داستاں چھیڑیں گے اے صادق

محبت کے ہی عنواں پر ہماری گفتگو ہو گی


صادق دہلوی

No comments:

Post a Comment