حور ہو یا کوئی پری ہو تم
کیسے دل میں اتر گئی ہو تم
تیری آنکھوں میں نیلے دریا ہیں
میرے خوابوں کی جل پری ہو تم
زندگی بھی تو عارضی ٹھہری
کیسے کہہ دوں کہ زندگی ہو تم
تم مِری نظم ہو، تخیل ہو
میری اردو ہو شاعری ہو تم
دیکھ جگنو بھی تم سے جلتے ہیں
چاند نگری کی چاندنی ہو تم
آئینہ خانہ بن گئی آنکھیں
سامنے ہو بہو کھڑی ہو تم
مجھ سے گویائی چھن گئی میری
جب سے پتھر کی بن گئی ہو تم
آخری بار دیکھ لوں تم کو
کیا پلٹ کر بھی دیکھتی ہو تم
آج دل نے تمہیں بہت ڈھونڈا
ایسے لگتا ہے جا چکی ہو تم
شجاعت اقبال
No comments:
Post a Comment