Saturday, 7 August 2021

حور ہو یا کوئی پری ہو تم

 حور ہو یا کوئی پری ہو تم

کیسے دل میں اتر گئی ہو تم

تیری آنکھوں میں نیلے دریا ہیں

میرے خوابوں کی جل پری ہو تم

زندگی بھی تو عارضی ٹھہری

کیسے کہہ دوں کہ زندگی ہو تم

تم مِری نظم ہو، تخیل ہو

میری اردو ہو شاعری ہو تم

دیکھ جگنو بھی تم سے جلتے ہیں

چاند نگری کی چاندنی ہو تم

آئینہ خانہ بن گئی آنکھیں

سامنے ہو بہو کھڑی ہو تم

مجھ سے گویائی چھن گئی میری

جب سے پتھر کی بن گئی ہو تم

آخری بار دیکھ لوں تم کو

کیا پلٹ کر بھی دیکھتی ہو تم

آج دل نے تمہیں بہت ڈھونڈا

ایسے لگتا ہے جا چکی ہو تم


شجاعت اقبال

No comments:

Post a Comment