دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہو گا
اپنے خرمن کو نہ اس برق سے نقصاں ہو گا
صبح محشر کا اگر چاک گریباں ہو گا
میرے ماتم میں سرِ حور بھی عریاں ہو گا
خاک سُلجھے گی تِری زُلف مِری جانب سے
کون جُز بادِ صبا سلسلۂ جنباں ہو گا
حسن کے رشک سے ہو جائیں گے گل زرد و سفید
اور ہی عالمِ گل ہائے گلستاں ہو گا
چشمِ کافر سے تِرے ہوں گے مسلماں کافر
خمِ ابرُو سے صنم گبر مسلماں ہو گا
جب شعور اس سے کہا زخم جگر کاری ہے
کج ادائی سے وہ یوں کہنے لگا؛ ہاں ہو گا
شعور بلگرامی
No comments:
Post a Comment