Saturday, 7 August 2021

دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہو گا

 دل پھڑک جائے گا وہ شوخ جو خنداں ہو گا

اپنے خرمن کو نہ اس برق سے نقصاں ہو گا

صبح محشر کا اگر چاک گریباں ہو گا

میرے ماتم میں سرِ حور بھی عریاں ہو گا

خاک سُلجھے گی تِری زُلف مِری جانب سے

کون جُز بادِ صبا سلسلۂ جنباں ہو گا

حسن کے رشک سے ہو جائیں گے گل زرد و سفید

اور ہی عالمِ گل ہائے گلستاں ہو گا

چشمِ کافر سے تِرے ہوں گے مسلماں کافر

خمِ ابرُو سے صنم گبر مسلماں ہو گا

جب شعور اس سے کہا زخم جگر کاری ہے

کج ادائی سے وہ یوں کہنے لگا؛ ہاں ہو گا


شعور بلگرامی

No comments:

Post a Comment