Saturday, 7 August 2021

مجھے ملال میں رکھنا خوشی تمہاری تھی

 مجھے ملال میں رکھنا خوشی تمہاری تھی

مگر میں خوش ہوں کہ وابستگی تمہاری تھی

بچھڑ کے تم سے خزاں ہو گئے تو یہ جانا

ہمارے حسن میں سب دلکشی تمہاری تھی

بہ نام شرط محبت یہ اشک بہنے دو

ہمیں خبر ہے کہ جو بے بسی تمہاری تھی

وہ صرف میں تو نہیں تھا جو ہجر میں رویا

وہ کیفیت جو مِری تھی وہی تمہاری تھی

گِلہ نہیں کہ مِرے حال پر ہنسی دنیا

گِلہ تو یہ ہے کہ پہلی ہنسی تمہاری تھی


سبحان اسد

No comments:

Post a Comment