Saturday, 7 August 2021

سنو کلائی میں گجرے مرجھا سے گئے ہیں

 سنو

کلائی میں گجرے

مُرجھا سے گئے ہیں

آنکھوں میں کاجل

پھیل سا گیا ہے

لبوں پہ چُپ کا قُفل ہے

رات کو بھی تنہائی کا دُکھ ہے

آنگن میں برستی پھوار ہے

اور اس برساتی رات میں

وارث کی ہیر گاتا ہوا شخص

جانے کیوں مجھے رُلاتا ہے

وہ تیری یاد دلاتا ہے


ارم زہرا

No comments:

Post a Comment