Showing posts with label جاوید قاسم. Show all posts
Showing posts with label جاوید قاسم. Show all posts

Monday, 22 June 2026

اگرچہ کام تو مشکل تھا کام کرنا پڑا

 اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا

دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا

شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا

پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا

بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے

جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا

Wednesday, 29 April 2026

اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ

 اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ

ظلِ سبحانی مِرے طنز کو گالی نہ سمجھ

ہو بھی سکتا ہے کوئی قرض چُکانے والا

در پہ آیا ہوا ہر شخص سوالی نہ سمجھ

شدتِ اشکِ تپاں کو نظر انداز نہ کر

چشم خونناب کو چائے کی پیالی نہ سمجھ

Tuesday, 28 April 2026

کوئی کرن نہ کرن کا کہیں نشاں ہے میاں

 کوئی کِرن نہ کِرن کا کہیں نشاں ہے میاں

یہ روشنی ہے تو پھر تیرگی کہاں ہے میاں

نمازیوں کو بتاؤ،۔ نمازیوں سے کہو

یہ مسجدوں کی نہیں دشت کی اذاں ہے میاں

ہمارے عہد کی راتیں ہیں چاندنی سے تہی

ہمارے عہد کا سُورج دُھواں دُھواں ہے میاں

Saturday, 19 February 2022

آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے

آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے

زخم دیتا ہے وہ نظر کے مجھے

ہجر کی ساعتوں میں رکھتا ہے

اک زمانہ تلاش کر کے مجھے

حبس اُترا ہے یوں رگ و پے میں

چھُو رہی ہے ہوا بھی ڈر کے مجھے