اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا
دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا
شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا
پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا
بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے
جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا
اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا
دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا
شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا
پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا
بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے
جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا
اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ
ظلِ سبحانی مِرے طنز کو گالی نہ سمجھ
ہو بھی سکتا ہے کوئی قرض چُکانے والا
در پہ آیا ہوا ہر شخص سوالی نہ سمجھ
شدتِ اشکِ تپاں کو نظر انداز نہ کر
چشم خونناب کو چائے کی پیالی نہ سمجھ
کوئی کِرن نہ کِرن کا کہیں نشاں ہے میاں
یہ روشنی ہے تو پھر تیرگی کہاں ہے میاں
نمازیوں کو بتاؤ،۔ نمازیوں سے کہو
یہ مسجدوں کی نہیں دشت کی اذاں ہے میاں
ہمارے عہد کی راتیں ہیں چاندنی سے تہی
ہمارے عہد کا سُورج دُھواں دُھواں ہے میاں
آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے
زخم دیتا ہے وہ نظر کے مجھے
ہجر کی ساعتوں میں رکھتا ہے
اک زمانہ تلاش کر کے مجھے
حبس اُترا ہے یوں رگ و پے میں
چھُو رہی ہے ہوا بھی ڈر کے مجھے