آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے
زخم دیتا ہے وہ نظر کے مجھے
ہجر کی ساعتوں میں رکھتا ہے
اک زمانہ تلاش کر کے مجھے
حبس اُترا ہے یوں رگ و پے میں
چھُو رہی ہے ہوا بھی ڈر کے مجھے
جب بھی دیکھا فلک کے آنگن میں
نقش دُھندلے ملے سحر کے مجھے
روز کے اب یہ میہماں قاسم
فرد لگتے ہیں اپنے گھر کے مجھے
جاوید قاسم
No comments:
Post a Comment