Saturday, 19 February 2022

آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے

آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے

زخم دیتا ہے وہ نظر کے مجھے

ہجر کی ساعتوں میں رکھتا ہے

اک زمانہ تلاش کر کے مجھے

حبس اُترا ہے یوں رگ و پے میں

چھُو رہی ہے ہوا بھی ڈر کے مجھے

جب بھی دیکھا فلک کے آنگن میں

نقش دُھندلے ملے سحر کے مجھے

روز کے اب یہ میہماں قاسم

فرد لگتے ہیں اپنے گھر کے مجھے


جاوید قاسم

No comments:

Post a Comment