Saturday, 19 February 2022

یہی فقط میری زندگی ہے

 یہی فقط میری زندگی ہے

تِری اطاعت ہی بندگی ہے

وہ آج سیر چمن کو آئے

گلوں کے چہروں پہ تازگی ہے

یہ ان کی ذرہ نوازیاں ہیں

جو دل کی بستی میں تیرگی ہے

جو میں نے پوچھا وفا کا مطلب

وہ ہنس کے بولے دِوانگی ہے

یہ ان کا دستِ کرم ہے مجھ پر

جو بات اب تک بنی ہوئی ہے

یہ زخمِ دل کی دوا ہے یارو

صبا کی جو شعر و شاعری ہے


صبا عزیز

No comments:

Post a Comment