Showing posts with label مہر افروز. Show all posts
Showing posts with label مہر افروز. Show all posts

Tuesday, 4 July 2023

مثل آہو بھٹکتا پھرتا ہوں

 "اپنی خوشبو پہ خود ہی شیدا ہوں "

مثلِ آہو بھٹکتا پھرتا ہوں

لب پہ خاموشیوں کے تالے ہیں

اپنی نظروں سے میں تو گویا ہوں

سر پرستی رہی غموں کی مگر

مست لمحوں سے میں بھی گزرا ہوں

Saturday, 24 June 2023

تم نے جو پوچھا ہے تو سچ بات بتا دی جائے

 تم نے جو پوچھا ہے تو سچ بات بتا دی جائے

کیا کہ بیتے ہوئے لمحوں کو سزا دی جائے

گرچہ موجود زمیں پر ہیں طلب گار بہت

دل میں جس شخص کی چاہت ہے، بُجھا دی جائے

وقت زندان سا ہے، لمحے ہیں زنجیر بہ کف

یہ ہوا آج زمانے میں اُڑا دی جائے

Thursday, 8 June 2023

آپ ہیں نور جہانوں کا رسول عربی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپؐ ہیں نُور جہانوں کا رسول عربیﷺ

اور ہیں خلق زمانوں کا رسول عربیﷺ

ختم سب آپ پہ قصے ہیں زمانے بھر کے

آپؐ عنوان فسانوں کا رسول عربیﷺ

راز کچھ راز نہیں عرش پہ جانے والے

آپؐ مظہر ہیں نشانوں کا رسول عربیﷺ

Monday, 5 June 2023

ہر ایک زخم محبت نشان لگتا ہے

 ہر ایک زخم محبت نشان لگتا ہے

کہ سارا لکھا ہی دردِ جہان لگتا ہے

صفِ عدو میں کھڑے تھےسبھی حبیب مِرے

تِرے بھی ہاتھ میں تیر وکمان لگتا ہے

ارادہ تھا تِرے ہی دل میں گھر بسا لیتے

مگر ابھی تو یہ کچا مکان لگتا ہے

Sunday, 4 June 2023

ہے رحمتوں کا امین پیارا نبی کے جیسا کوئی نہیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے رحمتوں کا امین پیارا، نبیؐ کے جیسا کوئی نہیں ہے

مِرا نبیﷺ ہے فلک کا تارہ نبیِ کے جیسا کوئی نہیں ہے

سب اپنے دل پر لیے مصائب جو دینِ حق کا سفر تھا باندھا

دلوں کا درماں، دلوں کا ماویٰ نبیؐ کے جیسا کوئی نہیں ہے

مثال قائم وہ کر گئے ہیں، جہان روشن وہ کر گئے ہیں

نبیؐ ہے میرا حکیم و دانا نبیؐ کے جیسا کوئی نہیں ہے

Saturday, 3 June 2023

مجھے آواز دو میں پتھر ہوتی جا رہی ہوں

 میرے سنسناتے پیروں کا احساس

یہ کہتا ہے

کہ میں سنگ ہوتی جا رہی ہوں

میں نے سوچنا چھوڑا

خود کو تیرے تابع کر دیا

میں نے پڑھنا چھوڑا

کہ تم نے مجھے پڑھنے لگے

میں نے چلنا اور سفر کرنا چھوڑا

کہ تم میرے ہمسفر تھے

اور مجھے لگا

یہ زندگی اصل سفر ہے

میرے احساس کی طنابیں

تمہاری پسلی سے شروع ہو کر

میری پسلیوں میں مقیّد دل پر

ختم ہوتی تھیں

سارے احساس کٹ گئے

جذبے مٹ گئے کہ

میں نے تم کو پا کر آنکھیں

بند کر لیں تھیں

آج اتنے سالوں بعد

ویرانیوں کے صحرا میں

تنہا کھڑی میں سوچوں 

کیا عجب تماشہ تھا

کہ سارے کھیل خود پر بند کر لیے

ایک شخص کی ہو کر

میں نے خود کو

پتھر کر لیا

تم نے میرے مجسمہ کو

گھر کے شوکیس میں سجا کر نکل گئے

پتھر ہوتی میں

اپنی آنکھوں سے اس

قید کو دیکھوں

اور چاہوں کوئی آواز دے

کسی جاوِداں اسم کو پڑھے

کہ پتھر ہوتی میں

جلا پاؤں

اس قید کے شیشے کو توڑوں

باہر نکل آؤں

کہ انکھوں کی روشنی بجھنے سے پہلے

کچھ پل جی سکوں

مجھے آواز دو

میں پتھر ہوتی جا رہی ہوں


مہر افروز