"اپنی خوشبو پہ خود ہی شیدا ہوں "
مثلِ آہو بھٹکتا پھرتا ہوں
لب پہ خاموشیوں کے تالے ہیں
اپنی نظروں سے میں تو گویا ہوں
سر پرستی رہی غموں کی مگر
مست لمحوں سے میں بھی گزرا ہوں
"اپنی خوشبو پہ خود ہی شیدا ہوں "
مثلِ آہو بھٹکتا پھرتا ہوں
لب پہ خاموشیوں کے تالے ہیں
اپنی نظروں سے میں تو گویا ہوں
سر پرستی رہی غموں کی مگر
مست لمحوں سے میں بھی گزرا ہوں
تم نے جو پوچھا ہے تو سچ بات بتا دی جائے
کیا کہ بیتے ہوئے لمحوں کو سزا دی جائے
گرچہ موجود زمیں پر ہیں طلب گار بہت
دل میں جس شخص کی چاہت ہے، بُجھا دی جائے
وقت زندان سا ہے، لمحے ہیں زنجیر بہ کف
یہ ہوا آج زمانے میں اُڑا دی جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپؐ ہیں نُور جہانوں کا رسول عربیﷺ
اور ہیں خلق زمانوں کا رسول عربیﷺ
ختم سب آپ پہ قصے ہیں زمانے بھر کے
آپؐ عنوان فسانوں کا رسول عربیﷺ
راز کچھ راز نہیں عرش پہ جانے والے
آپؐ مظہر ہیں نشانوں کا رسول عربیﷺ
ہر ایک زخم محبت نشان لگتا ہے
کہ سارا لکھا ہی دردِ جہان لگتا ہے
صفِ عدو میں کھڑے تھےسبھی حبیب مِرے
تِرے بھی ہاتھ میں تیر وکمان لگتا ہے
ارادہ تھا تِرے ہی دل میں گھر بسا لیتے
مگر ابھی تو یہ کچا مکان لگتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے رحمتوں کا امین پیارا، نبیؐ کے جیسا کوئی نہیں ہے
مِرا نبیﷺ ہے فلک کا تارہ نبیِ کے جیسا کوئی نہیں ہے
سب اپنے دل پر لیے مصائب جو دینِ حق کا سفر تھا باندھا
دلوں کا درماں، دلوں کا ماویٰ نبیؐ کے جیسا کوئی نہیں ہے
مثال قائم وہ کر گئے ہیں، جہان روشن وہ کر گئے ہیں
نبیؐ ہے میرا حکیم و دانا نبیؐ کے جیسا کوئی نہیں ہے
میرے سنسناتے پیروں کا احساس
یہ کہتا ہے
کہ میں سنگ ہوتی جا رہی ہوں
میں نے سوچنا چھوڑا
خود کو تیرے تابع کر دیا
میں نے پڑھنا چھوڑا
کہ تم نے مجھے پڑھنے لگے
میں نے چلنا اور سفر کرنا چھوڑا
کہ تم میرے ہمسفر تھے
اور مجھے لگا
یہ زندگی اصل سفر ہے
میرے احساس کی طنابیں
تمہاری پسلی سے شروع ہو کر
میری پسلیوں میں مقیّد دل پر
ختم ہوتی تھیں
سارے احساس کٹ گئے
جذبے مٹ گئے کہ
میں نے تم کو پا کر آنکھیں
بند کر لیں تھیں
آج اتنے سالوں بعد
ویرانیوں کے صحرا میں
تنہا کھڑی میں سوچوں
کیا عجب تماشہ تھا
کہ سارے کھیل خود پر بند کر لیے
ایک شخص کی ہو کر
میں نے خود کو
پتھر کر لیا
تم نے میرے مجسمہ کو
گھر کے شوکیس میں سجا کر نکل گئے
پتھر ہوتی میں
اپنی آنکھوں سے اس
قید کو دیکھوں
اور چاہوں کوئی آواز دے
کسی جاوِداں اسم کو پڑھے
کہ پتھر ہوتی میں
جلا پاؤں
اس قید کے شیشے کو توڑوں
باہر نکل آؤں
کہ انکھوں کی روشنی بجھنے سے پہلے
کچھ پل جی سکوں
مجھے آواز دو
میں پتھر ہوتی جا رہی ہوں
مہر افروز