Tuesday, 4 July 2023

مثل آہو بھٹکتا پھرتا ہوں

 "اپنی خوشبو پہ خود ہی شیدا ہوں "

مثلِ آہو بھٹکتا پھرتا ہوں

لب پہ خاموشیوں کے تالے ہیں

اپنی نظروں سے میں تو گویا ہوں

سر پرستی رہی غموں کی مگر

مست لمحوں سے میں بھی گزرا ہوں

بے یقینی رہی تمام حیات

چشم بینا کا میں بھی پرکھا ہوں

حادثوں کا نگر رہاہوں کبھی

آخری باغ کا میں غنچہ ہوں

بجھ گئی برگ و گل کی بینائی

میں گئے کل کی رُت کا قصہ ہوں

نکھری نکھری فضا کا میں باسی

وقت کے ساتھ ساتھ بکھرا ہوں

کوئی سمٹے تو پھر سے بن جاؤں

گویا مٹی کا کوئی دھیلا ہوں

اپنی راہ خود ہی میں بنا لوں گا

بہتے پانی کا ایک ریلا ہوں

اس تماشے پہ کچھ تو بول زرا

اپنی ہی ذات کا میں میلہ ہوں

یوں بکھیرو نہ مجھ کو یارو تم

میں کسی آنکھ کا ستارا ہوں


مہر افروز

No comments:

Post a Comment