بار فرقت تو اٹھانے کو اٹھائے کوئی
پہلے پتھر کا کلیجا تو بنائے کوئی
خوبرویانِ جہاں سب ہیں دغا کے پُتلے
دلفریبی پہ نہ ان لوگوں کی جائے کوئی
بات کچھ ہو تو خوشامد بھی کروں منت بھی
بے سبب رُوٹھو تو کس طرح منائے کوئی
دہنِ یار کے اسرار کھلے ہیں نہ کھلیں
بات کچھ ہو تو کوئی بات بنائے کوئی
کل تو گستاخِ ریا کار نے کی تھی توبہ
آج کہتا ہے؛ بھر بھر کے پلائے کوئی
گستاخ رامپوری
No comments:
Post a Comment