Tuesday, 4 July 2023

بار فرقت تو اٹھانے کو اٹھائے کوئی

 بار فرقت تو اٹھانے کو اٹھائے کوئی

پہلے پتھر کا کلیجا تو بنائے کوئی

خوبرویانِ جہاں سب ہیں دغا کے پُتلے

دلفریبی پہ نہ ان لوگوں کی جائے کوئی

بات کچھ ہو تو خوشامد بھی کروں منت بھی

بے سبب رُوٹھو تو کس طرح منائے کوئی

دہنِ یار کے اسرار کھلے ہیں نہ کھلیں

بات کچھ ہو تو کوئی بات بنائے کوئی

کل تو گستاخِ ریا کار نے کی تھی توبہ

آج کہتا ہے؛ بھر بھر کے پلائے کوئی


گستاخ رامپوری

No comments:

Post a Comment