کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے
ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے
نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں
بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے
خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں
اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے
کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے
ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے
نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں
بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے
خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں
اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے
راہیں دُھواں دُھواں ہیں سفر گرد گرد ہے
یہ منزلِ مُراد تو بس درد درد ہے
اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں
محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے
اس موسم بہار میں اے باغباں بتا
چہرہ ہر ایک پُھول کا کیوں زرد زرد ہے
ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی
کھوکھلی تہذیب کی فرزانگی ڈستی رہی
شعلۂ نفرت تو بھڑکا ایک لمحہ کے لیے
مُدتوں پھر شہر کو اک تیرگی ڈستی رہی
موت کی ناگن سے اب ہرگز وہ ڈر سکتا نہیں
جس کو ساری عمر خُود یہ زندگی ڈستی رہی
سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گُنجائش
ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش
نفرت کی تعصّب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں
پیدا ہوئی ذہنوں میں دِیوار کی گنجائش
پاکیزگی رُوحوں کی نِیلام ہوئی جب سے
جِسموں میں نکل آئی بازار کی گنجائش