Showing posts with label اسد رضا. Show all posts
Showing posts with label اسد رضا. Show all posts

Sunday, 5 May 2024

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے

 کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے

ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے

نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں

بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے

خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں

اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے

Tuesday, 9 January 2024

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

 راہیں دُھواں دُھواں ہیں سفر گرد گرد ہے

یہ منزلِ مُراد تو بس درد درد ہے

اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں

محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے

اس موسم بہار میں اے باغباں بتا

چہرہ ہر ایک پُھول کا کیوں زرد زرد ہے

Thursday, 2 September 2021

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

کھوکھلی تہذیب کی فرزانگی ڈستی رہی

شعلۂ نفرت تو بھڑکا ایک لمحہ کے لیے

مُدتوں پھر شہر کو اک تیرگی ڈستی رہی

موت کی ناگن سے اب ہرگز وہ ڈر سکتا نہیں

جس کو ساری عمر خُود یہ زندگی ڈستی رہی

Saturday, 5 December 2020

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گُنجائش

ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش

نفرت کی تعصّب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں

پیدا ہوئی ذہنوں میں دِیوار کی گنجائش

پاکیزگی رُوحوں کی نِیلام ہوئی جب سے

جِسموں میں نکل آئی بازار کی گنجائش