Showing posts with label حمزہ یعقوب. Show all posts
Showing posts with label حمزہ یعقوب. Show all posts

Tuesday, 7 March 2023

گھڑی کی سوئی سمے کے سفر میں رہ گئی تھی

 گھڑی کی سوئی سمے کے سفر میں رہ گئی تھی

ہماری شام کسی دوپہر میں رہ گئی تھی

ازل سے میری تراش و خراش کر رہا ہے

کوئی کمی تھی جو اس کی نظر میں رہ گئی تھی

تِری تلاش میں کچھ لوگ خاک ہو گئے تھے

اور ان کی خاک تِری رہگزر میں رہ گئی تھی

Thursday, 24 November 2022

کیونکر نہ ہوں مکین پریشان دیکھ لو

کیونکر نہ ہوں مکین پریشان دیکھ لو

دل جیسا شہر ہو گیا ویران دیکھ لو

میرے لیے وہ نیلگوں آنکھیں ہی ٹھیک ہیں

اپنے لیے الگ کوئی زندان دیکھ لو

حالات ایک سے نہیں رہتے، یہ جھوٹ ہے

ہم آج بھی ہیں بے سر و سامان، دیکھ لو

Monday, 3 October 2022

شروع ہونے کا مطلب ہی اختتام نہ ہو

 شروع ہونے کا مطلب ہی اختتام نہ ہو

مِری شکست کہیں تجھ سے انتقام نہ ہو

انا زیادہ ضروری ہے سانس کی نسبت

سپاہی مرتا ہے مر جائے، پر غلام نہ ہو

مجھے تو دل نے عجب وسوسوں میں ڈال دیا

شکست و ریخت کسی طرز کا کلام نہ ہو

Wednesday, 15 June 2022

نہ امن اور نہ مسائل کے حل میں ہوتا ہے

نہ امن اور نہ مسائل کے حل میں ہوتا ہے

ہمارا فائدہ جنگ و جدل میں ہوتا ہے

کسی بھی کام میں مجھ سے پہل نہیں ہوتی

مجھے تو پیار بھی رد عمل میں ہوتا ہے

ہزاروں سال بھی ٹھہرو تو کچھ نہیں ہو گا

جو کام ہونا ہو وہ ایک پل میں ہوتا ہے

Thursday, 17 March 2022

مرا اک صدی سے تو یار ہے تیری خیر ہو

 مِرا اک صدی سے تو یار ہے، تیری خیر ہو

 تیرے راستے میں غبار ہے، تیری خیر ہو

تیرے زرد چہرے پہ سرخ آنکھیں بتاتی ہیں

تجھے وحشتوں کا خمار ہے، تیری خیر ہو

میں تو ایک شخص سے دوستی نہ نبھا سکا

تُو تو سارے شہر کا یار ہے، تیری خیر ہو

Saturday, 12 March 2022

جو لوگ کہہ رہے ہیں جا خدا بھلا کرے گا

 جو لوگ کہہ رہے ہیں جا خدا بھلا کرے گا

فقیر ان کے بھی حق میں بہت دعا کرے گا

مِری تو خیر میں عادی ہوں ہجر کا، لیکن

میں سوچتا ہوں کہ تُو میرے بعد کیا کرے گا

وہ پہلے اچھے سے سمجھائے گا خدا کیا ہے

پھر اس کے بعد کسی بُت سے آشنا کرے گا

Wednesday, 9 March 2022

مرے سکوں سے جڑا ہے بہت پرانا ہے

 مِرے سکوں سے جڑا ہے، بہت پرانا ہے

جو خواب رات دکھا ہے، بہت پرانا ہے

جہاں پہ سوکھا ہوا پیڑ گرنے والا ہے

وہاں خزانہ چھپا ہے، بہت پرانا ہے

اداس چہرہ چمکنے میں عمر لگتی ہے

فلک جو تاروں بھرا ہے، بہت پرانا ہے

Sunday, 6 March 2022

کیا جانیے کب دیدۂ حیران میں آئی

 کیا جانیۓ کب دیدۂ حیران میں آئی

ہر چیز اچانک مِرے امکان میں آئی

پنچھی کسی مفروضے کے قائل نہیں ہوتے

یہ پہلی صفت تھی کہ جو انسان میں آئی

کیا ہو گیا دشمن کو اگر دل میں جگہ دی

الحاد کی آیت بھی تو قرآن میں آئی

Friday, 4 March 2022

گلے ملتے ہوئے واپس پلٹ جائے گا صاحب

 گلے ملتے ہوئے واپس پلٹ جائے گا صاحب 

غبارہ دھوپ میں جاتے ہی پھٹ جائے گا صاحب 

ہمارے دل پہ جتنے لوگ قابض ہو رہے ہیں 

یہ پتھر تو کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا صاحب 

مصیبت میں سہارے کی طلب کس کو نہیں ہے 

اندھیرا روشنی سے خود لپٹ جائے گا صاحب 

Thursday, 3 March 2022

کسی سے جنگ کسی سے جہاد چاہتے ہیں

 کسی سے جنگ کسی سے جہاد چاہتے ہیں 

خدا کے نام پہ کیا کیا فساد چاہتے ہیں 

یہ گِدھ نہیں یہ مِرے خاندان والے ہیں 

یہ میرا گوشت نہیں جائیداد چاہتے ہیں 

کریں گے تجھ سے کبھی خواب کے تبادلے بھی 

ابھی تو صرف تِرا اعتماد چاہتے ہیں 

Sunday, 12 September 2021

فقیر ہوں میرے کاسے میں مال و زر نہیں ہے

 فقیر ہوں میرے کاسے میں مال و زر نہیں ہے

اسی لیے تو مِری رائے معتبر نہیں ہے

اسے پتہ ہے تو کب کس سے ملنے جاتا ہے

وہ چپ ضرور ہے لیکن وہ بے خبر نہیں ہے

گزار دیں گے یونہی عمر چلتے پھرتے ہوئے

ہم ایسے خانہ بدوشوں کا کوئی گھر نہیں ہے