گھڑی کی سوئی سمے کے سفر میں رہ گئی تھی
ہماری شام کسی دوپہر میں رہ گئی تھی
ازل سے میری تراش و خراش کر رہا ہے
کوئی کمی تھی جو اس کی نظر میں رہ گئی تھی
تِری تلاش میں کچھ لوگ خاک ہو گئے تھے
اور ان کی خاک تِری رہگزر میں رہ گئی تھی
گھڑی کی سوئی سمے کے سفر میں رہ گئی تھی
ہماری شام کسی دوپہر میں رہ گئی تھی
ازل سے میری تراش و خراش کر رہا ہے
کوئی کمی تھی جو اس کی نظر میں رہ گئی تھی
تِری تلاش میں کچھ لوگ خاک ہو گئے تھے
اور ان کی خاک تِری رہگزر میں رہ گئی تھی
کیونکر نہ ہوں مکین پریشان دیکھ لو
دل جیسا شہر ہو گیا ویران دیکھ لو
میرے لیے وہ نیلگوں آنکھیں ہی ٹھیک ہیں
اپنے لیے الگ کوئی زندان دیکھ لو
حالات ایک سے نہیں رہتے، یہ جھوٹ ہے
ہم آج بھی ہیں بے سر و سامان، دیکھ لو
شروع ہونے کا مطلب ہی اختتام نہ ہو
مِری شکست کہیں تجھ سے انتقام نہ ہو
انا زیادہ ضروری ہے سانس کی نسبت
سپاہی مرتا ہے مر جائے، پر غلام نہ ہو
مجھے تو دل نے عجب وسوسوں میں ڈال دیا
شکست و ریخت کسی طرز کا کلام نہ ہو
نہ امن اور نہ مسائل کے حل میں ہوتا ہے
ہمارا فائدہ جنگ و جدل میں ہوتا ہے
کسی بھی کام میں مجھ سے پہل نہیں ہوتی
مجھے تو پیار بھی رد عمل میں ہوتا ہے
ہزاروں سال بھی ٹھہرو تو کچھ نہیں ہو گا
جو کام ہونا ہو وہ ایک پل میں ہوتا ہے
مِرا اک صدی سے تو یار ہے، تیری خیر ہو
تیرے راستے میں غبار ہے، تیری خیر ہو
تیرے زرد چہرے پہ سرخ آنکھیں بتاتی ہیں
تجھے وحشتوں کا خمار ہے، تیری خیر ہو
میں تو ایک شخص سے دوستی نہ نبھا سکا
تُو تو سارے شہر کا یار ہے، تیری خیر ہو
جو لوگ کہہ رہے ہیں جا خدا بھلا کرے گا
فقیر ان کے بھی حق میں بہت دعا کرے گا
مِری تو خیر میں عادی ہوں ہجر کا، لیکن
میں سوچتا ہوں کہ تُو میرے بعد کیا کرے گا
وہ پہلے اچھے سے سمجھائے گا خدا کیا ہے
پھر اس کے بعد کسی بُت سے آشنا کرے گا
مِرے سکوں سے جڑا ہے، بہت پرانا ہے
جو خواب رات دکھا ہے، بہت پرانا ہے
جہاں پہ سوکھا ہوا پیڑ گرنے والا ہے
وہاں خزانہ چھپا ہے، بہت پرانا ہے
اداس چہرہ چمکنے میں عمر لگتی ہے
فلک جو تاروں بھرا ہے، بہت پرانا ہے
کیا جانیۓ کب دیدۂ حیران میں آئی
ہر چیز اچانک مِرے امکان میں آئی
پنچھی کسی مفروضے کے قائل نہیں ہوتے
یہ پہلی صفت تھی کہ جو انسان میں آئی
کیا ہو گیا دشمن کو اگر دل میں جگہ دی
الحاد کی آیت بھی تو قرآن میں آئی
گلے ملتے ہوئے واپس پلٹ جائے گا صاحب
غبارہ دھوپ میں جاتے ہی پھٹ جائے گا صاحب
ہمارے دل پہ جتنے لوگ قابض ہو رہے ہیں
یہ پتھر تو کئی ٹکڑوں میں بٹ جائے گا صاحب
مصیبت میں سہارے کی طلب کس کو نہیں ہے
اندھیرا روشنی سے خود لپٹ جائے گا صاحب
کسی سے جنگ کسی سے جہاد چاہتے ہیں
خدا کے نام پہ کیا کیا فساد چاہتے ہیں
یہ گِدھ نہیں یہ مِرے خاندان والے ہیں
یہ میرا گوشت نہیں جائیداد چاہتے ہیں
کریں گے تجھ سے کبھی خواب کے تبادلے بھی
ابھی تو صرف تِرا اعتماد چاہتے ہیں
فقیر ہوں میرے کاسے میں مال و زر نہیں ہے
اسی لیے تو مِری رائے معتبر نہیں ہے
اسے پتہ ہے تو کب کس سے ملنے جاتا ہے
وہ چپ ضرور ہے لیکن وہ بے خبر نہیں ہے
گزار دیں گے یونہی عمر چلتے پھرتے ہوئے
ہم ایسے خانہ بدوشوں کا کوئی گھر نہیں ہے