کیا جانیۓ کب دیدۂ حیران میں آئی
ہر چیز اچانک مِرے امکان میں آئی
پنچھی کسی مفروضے کے قائل نہیں ہوتے
یہ پہلی صفت تھی کہ جو انسان میں آئی
کیا ہو گیا دشمن کو اگر دل میں جگہ دی
الحاد کی آیت بھی تو قرآن میں آئی
میں رات گئے جونہی سفر کے لیے نکلا
دن بھر کی تھکن بھی مِرے سامان میں آئی
فرقت نے سکھایا مجھے قربت کا سلیقہ
آزادی میسر مجھے زندان میں آئی
اس بار مِرے لوگ مِرے ساتھ نہیں تھے
اس بار کمی صرف مِری شان میں آئی
عالم میں ہر اک چیز کی قیمت ہے مقرر
یہ روشنی تاریکی کے تاوان میں آئی
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment