تِرے غم سے گزاری آنکھ میں نے
تو پھر دل میں اتاری آنکھ میں نے
میں اپنی روشنی میں چل رہا ہوں
نہیں پائی بھکاری آنکھ میں نے
تجھے دیکھا تو پھر خود کو بھی دیکھا
بلندی سے اتاری آنکھ میں نے
مسلسل ٹکٹکی باندھے ہوئے کی
تِرے رستے پہ جاری آنکھ میں نے
میں رحمت گاہ میں سویا ہوا تھا
نہیں کی بند ساری آنکھ میں نے
مقامِ شُکر ہے، پائی نہیں ہے
تِرے جلووں سے عاری آنکھ میں نے
تُو قاسم راز کو بھی دیکھتا ہے
تِری آنکھوں پہ واری آنکھ میں نے
قاسم راز
No comments:
Post a Comment