تلخئ زیست
زرد جیسے کہ مہتابِ شبِ تنہائی
جاگ دوشیزۂ شب تاب کا الھڑ جوبن
جذبۂ شوق جوانی کا خمار
بیئر کا گلاس
سب کچھ ہے، لیکن
ذہن و ادراک کے پردے پہ گرانبار ہے یہ
دوستو! آج مجھے جامِ مۓ ناب نہ دو
لمحۂ مہلت دے دو
تاکہ میں سوچ سکوں
یاد کروں
غور کروں
تاکہ انسان بنوں
عارف نقوی
No comments:
Post a Comment