Sunday, 6 March 2022

اب تمہاری آنکھوں سے رابطہ ضروری ہے

 اب تمہاری آنکھوں سے رابطہ ضروری ہے

بات کچھ نہیں ہے پر مشورہ ضروری ہے 

کون تم کو سمجھائے کون تم کو بتلائے

ایک در گزر کا بھی راستہ ضروری ہے 

پیار ہو دکھاوہ تو پھر ہوس ہی ملتی ہے

قربتیں ہوں جھوٹی تو فاصلہ ضروری ہے

خالی خالی لگتے ہیں اب جنوں کے رستے میں

قیس جیسے لوگوں کا قافلہ ضروری ہے

دیکھ کیا مسائل ہیں ہم کو کارِ دنیا کے

جون کے لیے تو بس فارہہ ضروری ہے 

اک قلم اٹھانے پر شاعری نہیں ہوتی

شعر دل سے کہنے کو سانحہ ضروری ہے

غاصبوں کی دنیا میں ظالموں کی بستی میں

حق کی رو نمائی کو کربلا ضروری ہے


کاشف ظریف

No comments:

Post a Comment