اب تمہاری آنکھوں سے رابطہ ضروری ہے
بات کچھ نہیں ہے پر مشورہ ضروری ہے
کون تم کو سمجھائے کون تم کو بتلائے
ایک در گزر کا بھی راستہ ضروری ہے
پیار ہو دکھاوہ تو پھر ہوس ہی ملتی ہے
قربتیں ہوں جھوٹی تو فاصلہ ضروری ہے
خالی خالی لگتے ہیں اب جنوں کے رستے میں
قیس جیسے لوگوں کا قافلہ ضروری ہے
دیکھ کیا مسائل ہیں ہم کو کارِ دنیا کے
جون کے لیے تو بس فارہہ ضروری ہے
اک قلم اٹھانے پر شاعری نہیں ہوتی
شعر دل سے کہنے کو سانحہ ضروری ہے
غاصبوں کی دنیا میں ظالموں کی بستی میں
حق کی رو نمائی کو کربلا ضروری ہے
کاشف ظریف
No comments:
Post a Comment