عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خون کے آنسو ہے صغریٰؑ کو رلاتی چاندنی
دیکھ کر چاند آ گئی یاد اپنے گھر کی چاندنی
اب نہیں لگتی کسی پہلو بھی اچھی چاندنی
شہ سفر میں ہیں کہاں کا چاند کیسی چاندنی
دل منور ہو گیا، حُرؑ کی چھٹیں تاریکیاں
دیکھنے میں تھی گھٹا کالی، پہ برسی چاندنی