Showing posts with label علی رضوی. Show all posts
Showing posts with label علی رضوی. Show all posts

Tuesday, 25 June 2024

دیکھ کر چاند آ گئی یاد اپنے گھر کی چاندنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خون کے آنسو ہے صغریٰؑ کو رلاتی چاندنی

دیکھ کر چاند آ گئی یاد اپنے گھر کی چاندنی

اب نہیں لگتی کسی پہلو بھی اچھی چاندنی

شہ سفر میں ہیں کہاں کا چاند کیسی چاندنی

دل منور ہو گیا، حُرؑ کی چھٹیں تاریکیاں

دیکھنے میں تھی گھٹا کالی، پہ برسی چاندنی

Tuesday, 18 June 2024

یہ سوچتا ہوں کبھی کبھی میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں

یہ سوچتا ہوں کبھی کبھی میں

عدم کو جس نے وجود بخشا

وجود کو پھر نمود بخشا

نمود کو تازگی عطا کی

عطا کی حد حشر سے ملا دی

Monday, 17 June 2024

رکنے نہ پائے ایک قدم اونچا رہے اپنا علم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اونچا رہے اپنا علم

جب تک ہے دورِ آسماں

سُن لیں گے ہر پیر و جواں

آواز پر شبیر کی بڑھتا رہے یہ کارواں

رُکنے نہ پائے ایک قدم

اونچا رہے اپنا علم

Sunday, 16 June 2024

الفت شبیر کی جس دل میں پھیلی چاندنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الفتِ شبیرؑ کی جس دل میں پھیلی چاندنی

اُس کی قسمت میں یہاں بھی ہے وہاں بھی چاندنی

عزمِ شبیریؑ کو دھمکاتا ہے تخت و تاج سے

اے امیرِ شام! ہے یہ چار دن کی چاندنی

کربلا سے خلد تک اک خط کھنچا ہے نور کا

چاند زیرِ خاک ہے تا عرش اُس کی چاندنی

Saturday, 15 June 2024

بعد احمد کے کچھ اس طرح سے بگڑا تھا نظام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بعد احمدؐ کے کچھ اس طرح سے بگڑا تھا نظام

بِدعتیں عام تھیں، احکام شریعت تھے حرام

چند ہاتھوں میں کھلونے کی طرح تھا اسلام

شہؑ سے دیکھا نہ گیا مٹتے ہوئے حق کا پیام

حق کی تبلیغ کو ہاتھوں پہ لیے سر نکلے

لے کے شبیرؑ مدینے سے بھرا گھر، نکلے

Saturday, 14 August 2021

شوق کا مرحلہ بھی ٹوٹ گیا

 شوق کا مرحلہ بھی ٹوٹ گیا

ضبط اور ضابطہ بھی ٹوٹ گیا

امن کی فاختہ بھی روٹھ گئی

اس کا وہ گھونسلہ بھی ٹوٹ گیا

کہکشاں چھوٹتے ہی یادوں کی

وصل کا راستہ بھی ٹوٹ گیا