ہم بلا شرط محبت کے ہیں قائل سائیں
ہے وجہ مجھ پہ کرم کو ہے وہ مائل سائیں
مجھ کو منظور نظر بننا تھا اس کا، لیکن
درمیاں اپنے انا بھی رہی حائل سائیں
میں نے رشتوں کی طنابوں کو بہت سخت رکھا
اس لیے ہوتا رہا رشتوں سے گھائل سائیں
ہم بلا شرط محبت کے ہیں قائل سائیں
ہے وجہ مجھ پہ کرم کو ہے وہ مائل سائیں
مجھ کو منظور نظر بننا تھا اس کا، لیکن
درمیاں اپنے انا بھی رہی حائل سائیں
میں نے رشتوں کی طنابوں کو بہت سخت رکھا
اس لیے ہوتا رہا رشتوں سے گھائل سائیں
لگا کے گُلشن کو آگ میرے کہا چراغاں کرا رہے ہیں
لُٹا کے اپنے تمام اثاثے کو جشن ہم بھی منا رہے ہیں
وہیں کھڑے ہیں جہاں پہ چھوڑا تھا رہبروں نے ہمیں سدھا کر
قدم زمیں میں گڑے ہوئے ہیں، نہ آ رہے ہیں نہ جا رہے ہیں
ارے میاں کون کس کا دُشمن، وہ سازشی تھے وہ سازشی ہیں
ہنسی مجھے اس پہ آ رہی ہے، ڈرے ہوئے ہیں، ڈرا رہے ہیں
چوٹ نہیں ہے گھاؤ ہے
حملہ کب ہے؟ داؤ ہے
دریا اپنے زور پہ ہے
ٹُوٹی پُھوٹی ناؤ ہے
شہرِ انا سے پُوچھو تو
کس کا کتنا بھاؤ ہے؟
بجا کہ آپ کی گِنتی وفا شعار میں ہے
یہ دل کہ آج بھی جو شُغلِ انتظار میں ہے
توقعات کے پرزے اُڑا دئیے میں نے
رگِ اُمید بھی دامن کے تار تار میں ہے
ہُوا جو فیضِ خُدا، روشنی میں بدلے گی
جو تیرگئ گُنہ، فردِ جُرم کار میں ہے
بُھول چُکا ہُوں بُرا ہے کیا اور اچھا کیا
غور سے دیکھو، میرا چہرہ بدلا کیا؟
لکھتے رہتے ہو برگد، پیپل، نظمیں
یاد ہے تم کو اب تک گاؤں کا رستہ کیا؟
یہ تو ہے اس دور کی انسانی فطرت
باہر سے کیا ہے، اندر سے نکلا کیا