Showing posts with label شعیب فاطمی. Show all posts
Showing posts with label شعیب فاطمی. Show all posts

Tuesday, 20 February 2024

ہم بلا شرط محبت کے ہیں قائل سائیں

 ہم بلا شرط محبت کے ہیں قائل سائیں

ہے وجہ مجھ پہ کرم کو ہے وہ مائل سائیں

مجھ کو منظور نظر بننا تھا اس کا، لیکن

درمیاں اپنے انا بھی رہی حائل سائیں

میں نے رشتوں کی طنابوں کو بہت سخت رکھا

اس لیے ہوتا رہا رشتوں سے گھائل سائیں

Tuesday, 2 January 2024

لگا کے گلشن کو آگ میرے کہا چراغاں کرا رہے ہیں

 لگا کے گُلشن کو آگ میرے کہا چراغاں کرا رہے ہیں

لُٹا کے اپنے تمام اثاثے کو جشن ہم بھی منا رہے ہیں

وہیں کھڑے ہیں جہاں پہ چھوڑا تھا رہبروں نے ہمیں سدھا کر

قدم زمیں میں گڑے ہوئے ہیں، نہ آ رہے ہیں نہ جا رہے ہیں

ارے میاں کون کس کا دُشمن، وہ سازشی تھے وہ سازشی ہیں

ہنسی مجھے اس پہ آ رہی ہے، ڈرے ہوئے ہیں، ڈرا رہے ہیں

Tuesday, 26 December 2023

چوٹ نہیں ہے گھاؤ ہے

 چوٹ نہیں ہے گھاؤ ہے

حملہ کب ہے؟ داؤ ہے

دریا اپنے زور پہ ہے

ٹُوٹی پُھوٹی ناؤ ہے

شہرِ انا سے پُوچھو تو

کس کا کتنا بھاؤ ہے؟

Monday, 25 December 2023

بجا کہ آپ کی گنتی وفا شعار میں ہے

 بجا کہ آپ کی گِنتی وفا شعار میں ہے

یہ دل کہ آج بھی جو شُغلِ انتظار میں ہے

توقعات کے پرزے اُڑا دئیے میں نے

رگِ اُمید بھی دامن کے تار تار میں ہے

ہُوا جو فیضِ خُدا، روشنی میں بدلے گی

جو تیرگئ گُنہ، فردِ جُرم کار میں ہے

Wednesday, 16 August 2023

بھول چکا ہوں برا ہے کیا اور اچھا کیا

بُھول چُکا ہُوں بُرا ہے کیا اور اچھا کیا

غور سے دیکھو، میرا چہرہ بدلا کیا؟

لکھتے رہتے ہو برگد، پیپل، نظمیں

یاد ہے تم کو اب تک گاؤں کا رستہ کیا؟

یہ تو ہے اس دور کی انسانی فطرت

باہر سے کیا ہے، اندر سے نکلا کیا