سایہ
رخشِ عمر راکب سے بے نیاز ہے
سر پٹ دوڑ رہا ہے
راکب اپنے خیالوں میں گم ہے
اسے ایک ایسا سفر در پیش ہے
جس کے کسی بھی پڑاؤ پر تھکن اتارنے کی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
سایہ
رخشِ عمر راکب سے بے نیاز ہے
سر پٹ دوڑ رہا ہے
راکب اپنے خیالوں میں گم ہے
اسے ایک ایسا سفر در پیش ہے
جس کے کسی بھی پڑاؤ پر تھکن اتارنے کی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
من تُو شُدم
میں تمہیں جانتی ہوں
مجھے معلوم ہے
تم کب سے تنہائی کے نشانے پر ہو
تم اس کی عادی بن چکی تھی
تم نے زندگی کو
کیا تُو صرف ان کو پکارے گا
جو عبادت میں کثرت کر گئے
ایک کم متقی
مگر زیادہ مطمئن کو
کیوں نہیں؟
میں خالی دامن
وہ ایک پل
میرے صورت گر
تمہیں شاید معلوم نہیں
چاک پہ گھومتے ہوئے
تمہیں دیکھنے کے لیے
میری آنکھیں ایک پل کے لیے تمہاری جانب اٹھیں
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
فرات سے دمشق تک
امامِ عالی مقام کےغم میں روتے ہوئے زمانے سن
تو
زینبؑ کی صدا
اور سکینہؑ کی بُکا کو کیسے بھول سکتا ہے
زینبؑ اس وقت کی گواہ ہے
واصفا
میری گُھٹن کے دنوں کے واحد رازداں
میرے غارت لمحوں میں اُمید کی پہلی کِرن
میری پُتلیوں پر جمی حیرتوں کو مُنکشف کرنے والے
میرے واصفا
کمزور لمحوں میں
میرے گُمان کو یقین کا راستہ دکھاتے
اثبات
جب سانسوں کی تسبیح کرتے
ایک موتی کے بعد دوسرا موتی پرونے میں
ان تھک محنت لگ رہی ہو
جب زندگی کا سب سے مشکل کام
اپنی سانسوں کو برقرار رکھنا ہو