Saturday, 13 May 2023

واصفا میرے واصفا

 واصفا


میری گُھٹن کے دنوں کے واحد رازداں

میرے غارت لمحوں میں اُمید کی پہلی کِرن

میری پُتلیوں پر جمی حیرتوں کو مُنکشف کرنے والے

میرے واصفا

کمزور لمحوں میں

میرے گُمان کو یقین کا راستہ دکھاتے

اپنی ذات کی نفی کرتے

مجھے اثبات کے تخت پر جلوہ افروز کرتے

خواب ساعتوں کی کوری تختی پر

لکھے ایک لفظ سے

میری ہستی کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپی ان کہی کا

سُراغ لگاتے

تم تھکتے نہیں ہو

کم میسر

یونہی راضی نہیں ہوتے

میں جانتی ہوں

قناعت کے بطن میں چُھپی طلب مرتی نہیں

داد رسی کی اُمید لگائے

دستک کی منتظر رہتی ہے


مدیحہ مغل

No comments:

Post a Comment