Showing posts with label جمیل عظیم آبادی. Show all posts
Showing posts with label جمیل عظیم آبادی. Show all posts

Thursday, 16 May 2024

نفرت کی آگ لگائے ہوئے ہیں لوگ

 نفرت کی آگ لگائے ہوئے ہیں لوگ

مہرو وفا کا درس بُھلا ئے ہوئے ہیں لوگ

مشکل ہے گلستاں میں گزر عندلیب کا

ہراک قدم پہ دام بچھا ئے ہوئے ہیں لوگ

اس شہر بے اماں میں تو جینا محال ہے

مقتل گلی گلی میں سجا ئے ہوئے ہیں لوگ

Friday, 10 December 2021

توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچھتائے ہیں

توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچھتائے ہیں 

جب جب ان سے آنکھ ملی ہے تب تب وہ شرمائے ہیں 

رُوپ نگر کو چھوڑ کے جب سے آس نگر کو آئے ہیں 

صحرا صحرا دُھوپ کڑی ہے پیڑ نہ کوئی سائے ہیں 

جنگل جنگل آگ لگی ہے، دریا دریا پانی ہے 

نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں 

Saturday, 10 July 2021

لکھنا ہے سرگزشت قلم ناز سے اٹھا

لکھنا ہے سرگزشت قلم ناز سے اُٹھا 

ہر نقطۂ حیات کو آغاز سے اٹھا 

ہر ماسوا کے خوف کو جس نے مٹا دیا 

نعرہ وہ لا تذر کا میرے ساز سے اٹھا 

جو بھی بھرم تھا چاند ستاروں کا کھل گیا 

پردہ کچھ ایسا جرأت پرواز سے اٹھا