نفرت کی آگ لگائے ہوئے ہیں لوگ
مہرو وفا کا درس بُھلا ئے ہوئے ہیں لوگ
مشکل ہے گلستاں میں گزر عندلیب کا
ہراک قدم پہ دام بچھا ئے ہوئے ہیں لوگ
اس شہر بے اماں میں تو جینا محال ہے
مقتل گلی گلی میں سجا ئے ہوئے ہیں لوگ
نفرت کی آگ لگائے ہوئے ہیں لوگ
مہرو وفا کا درس بُھلا ئے ہوئے ہیں لوگ
مشکل ہے گلستاں میں گزر عندلیب کا
ہراک قدم پہ دام بچھا ئے ہوئے ہیں لوگ
اس شہر بے اماں میں تو جینا محال ہے
مقتل گلی گلی میں سجا ئے ہوئے ہیں لوگ
توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچھتائے ہیں
جب جب ان سے آنکھ ملی ہے تب تب وہ شرمائے ہیں
رُوپ نگر کو چھوڑ کے جب سے آس نگر کو آئے ہیں
صحرا صحرا دُھوپ کڑی ہے پیڑ نہ کوئی سائے ہیں
جنگل جنگل آگ لگی ہے، دریا دریا پانی ہے
نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں
لکھنا ہے سرگزشت قلم ناز سے اُٹھا
ہر نقطۂ حیات کو آغاز سے اٹھا
ہر ماسوا کے خوف کو جس نے مٹا دیا
نعرہ وہ لا تذر کا میرے ساز سے اٹھا
جو بھی بھرم تھا چاند ستاروں کا کھل گیا
پردہ کچھ ایسا جرأت پرواز سے اٹھا