Saturday, 10 July 2021

لکھنا ہے سرگزشت قلم ناز سے اٹھا

لکھنا ہے سرگزشت قلم ناز سے اُٹھا 

ہر نقطۂ حیات کو آغاز سے اٹھا 

ہر ماسوا کے خوف کو جس نے مٹا دیا 

نعرہ وہ لا تذر کا میرے ساز سے اٹھا 

جو بھی بھرم تھا چاند ستاروں کا کھل گیا 

پردہ کچھ ایسا جرأت پرواز سے اٹھا 

وہ شور جس سے عظمت شاہی لرز گئی 

تبریز‌ و قم سے مشہد و شیراز سے اٹھا 

افسردہ انجمن ہے فسردہ ہیں اہل دل 

یہ کون آج جلوہ گہہ ناز سے اٹھا 

یہ نونہال باغ تمنّا کے پھول ہیں 

آغوش دل میں ان کو ذرا ناز سے اٹھا 

مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے یہی جمیل

اک مرد حق کی لاش ہے اعزاز سے اٹھا


جمیل عظیم آبادی​

No comments:

Post a Comment