Showing posts with label نیر واسطی. Show all posts
Showing posts with label نیر واسطی. Show all posts

Friday, 15 October 2021

بہار صبح نے گل کو رلا کے چھوڑ دیا

 بہار صبح نے گل کو رُلا کے چھوڑ دیا

شراب ناب کو شبنم بنا کے چھوڑ دیا 

کوئی بتائے کہ اس ناخدا کو کیا کہیے 

سفینہ جس نے بھنور میں پھنسا کے چھوڑ دیا 

وہ سخت جاں ہوں کہ جب کامیاب ہو نہ سکی 

تِری جفا نے مجھے آزما کے چھوڑ دیا 

Wednesday, 13 October 2021

سوئے رات کو روتے روتے

 سوئے رات کو روتے روتے

اٹھ بیٹھے پھر سوتے سوتے

کاش وہ زیبِ بالیں ہوتے

ہم چونک اٹھتے سوتے سوتے

ختم ہوا افسانۂ ہستی

ہنستے ہنستے روتے روتے

Thursday, 6 May 2021

حیراں ہے آنکھ چشم عنایت کو کیا ہوا

  حیراں ہے آنکھ چشمِ عنایت کو کیا ہُوا

دنیا میں رسم و راہِ محبت کو کیا ہوا

مانا کہ شہرِ حُسن میں جنسِ وفا نہیں

لیکن جہاں میں عشق کی دولت کو کیا ہوا

آتی ہے یاد روز، خود آتی نہیں مگر

یا رب ہماری شامِ مسرّت کو کیا ہوا

Monday, 8 March 2021

میں ان حسین نظاروں کے پاس آ نہ سکا

 میں ان حسین نظاروں کے پاس آ نہ سکا

خزاں نصیب بہاروں کے پاس آ نہ سکا

رہا فلک پہ ستاروں میں جلوہ گر مہتاب

وہ اپنے سینہ فگاروں کے پاس آ نہ سکا

تمام عمر رہا ہمکنار موجوں سے

سفینہ اپنا کناروں کے پاس آ نہ سکا

Wednesday, 16 December 2020

پھر ہجر و فراق کی گھڑی ہے

 پھر ہجر و فراق کی گھڑی ہے

عمرِ غمِ آرزو بڑی ہے

پلکوں پہ مچل رہے ہیں انجم

کس چاند سے آنکھ جا لڑی ہے

آ جاؤ کہ ایک بار ہنس لیں

"رونے کو تو زندگی پڑی ہے"