بہار صبح نے گل کو رُلا کے چھوڑ دیا
شراب ناب کو شبنم بنا کے چھوڑ دیا
کوئی بتائے کہ اس ناخدا کو کیا کہیے
سفینہ جس نے بھنور میں پھنسا کے چھوڑ دیا
وہ سخت جاں ہوں کہ جب کامیاب ہو نہ سکی
تِری جفا نے مجھے آزما کے چھوڑ دیا
بہار صبح نے گل کو رُلا کے چھوڑ دیا
شراب ناب کو شبنم بنا کے چھوڑ دیا
کوئی بتائے کہ اس ناخدا کو کیا کہیے
سفینہ جس نے بھنور میں پھنسا کے چھوڑ دیا
وہ سخت جاں ہوں کہ جب کامیاب ہو نہ سکی
تِری جفا نے مجھے آزما کے چھوڑ دیا
سوئے رات کو روتے روتے
اٹھ بیٹھے پھر سوتے سوتے
کاش وہ زیبِ بالیں ہوتے
ہم چونک اٹھتے سوتے سوتے
ختم ہوا افسانۂ ہستی
ہنستے ہنستے روتے روتے
حیراں ہے آنکھ چشمِ عنایت کو کیا ہُوا
دنیا میں رسم و راہِ محبت کو کیا ہوا
مانا کہ شہرِ حُسن میں جنسِ وفا نہیں
لیکن جہاں میں عشق کی دولت کو کیا ہوا
آتی ہے یاد روز، خود آتی نہیں مگر
یا رب ہماری شامِ مسرّت کو کیا ہوا
میں ان حسین نظاروں کے پاس آ نہ سکا
خزاں نصیب بہاروں کے پاس آ نہ سکا
رہا فلک پہ ستاروں میں جلوہ گر مہتاب
وہ اپنے سینہ فگاروں کے پاس آ نہ سکا
تمام عمر رہا ہمکنار موجوں سے
سفینہ اپنا کناروں کے پاس آ نہ سکا
پھر ہجر و فراق کی گھڑی ہے
عمرِ غمِ آرزو بڑی ہے
پلکوں پہ مچل رہے ہیں انجم
کس چاند سے آنکھ جا لڑی ہے
آ جاؤ کہ ایک بار ہنس لیں
"رونے کو تو زندگی پڑی ہے"