Wednesday, 13 October 2021

سوئے رات کو روتے روتے

 سوئے رات کو روتے روتے

اٹھ بیٹھے پھر سوتے سوتے

کاش وہ زیبِ بالیں ہوتے

ہم چونک اٹھتے سوتے سوتے

ختم ہوا افسانۂ ہستی

ہنستے ہنستے روتے روتے

تیری یاد میں او پردیسی 

عمر گنوا دی روتے روتے 

سوکھ گئیں آشاؤں کی کلیاں 

فیض بہاراں ہوتے ہوتے 

شور ہے ہر سُو نیر، نیر

ہو گئے چرچے ہوتے ہوتے 


نیر واسطی

No comments:

Post a Comment