Wednesday, 13 October 2021

وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے

 وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے

تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے 

تمہیں خبر ہی نہیں میرے دن گزرنے کی 

تمہیں خبر ہی نہیں رات کیسے کٹتی ہے 

عجب زمین پہ اترا ہوں اس کے رنگ عجیب 

پرے دھکیلتی ہے، پاؤں بھی پکڑتی ہے 

یہ کیا ہوا کہ کسی اور گھر کے آنگن میں 

تِرے جمال کی بارش برستی رہتی ہے 

ہوا کے دوش پہ اڑتا میں جا رہا ہوں عطا

زمین پاؤں سے میرے سرکتی جاتی ہے 


عطاءالحق قاسمی

No comments:

Post a Comment