Showing posts with label ریاض الرحمٰن. Show all posts
Showing posts with label ریاض الرحمٰن. Show all posts

Friday, 19 April 2024

ملے گی بھاری جو تنخواہ ضلع ناظم کو

 زعفرانی غزل

ضلع ناظم کی تنخواہ 


ملے گی بھاری جو تنخواہ ضلع ناظم کو

لگے گی ڈی سی او کی آہ ضلع ناظم کو 

نہ صرف سیلری ستر ہزار ماہانہ

ضلع کے لوگوں کو دینا پڑے گا جرمانہ 

کرایہ گھر کا بھی کیا کم ہے پورے تیس ہزار

ملے گا صاحبو! ہر ماہ ضلع ناظم کو 

Wednesday, 9 September 2020

کبھی تو نظر ملاؤ کبھی تو قریب آؤ

گیت

کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ
جو نہیں کہا ہے، کبھی تو سمجھ بھی جاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ

ہم نے تم کو دیکھتے ہی دل دیا
تم بھی سوچو تم نے ہم سے کیا کیا
میرا دل نہ توڑو، کبھی دل سے دل ملاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ
جو نہیں کہا ہے، کبھی تو سمجھ بھی جاؤ
ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے
کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ

Tuesday, 8 September 2020

تیری اونچی شان ہے مولا

فلمی گیت

تیری اونچی شان ہے مولا
میری عرضی مان لے مولا
تُو ہی سب کچھ جاننے والا
میں ہوں تیرا ماننے والا
مجھ کو بھی تو لفٹ کرا دے
تھوڑی سی تو لفٹ کرا دے

Monday, 7 September 2020

یہ زمیں رک جائے آسماں جھک جائے

فلمی گیت

یہ زمیں رک جائے
آسماں جھک جائے
تیرا چہرہ جب نظر آئے

تُو اجازت دے اگر 
تجھ سے تھوڑا پیار میں کر لوں
جانِ جاں

Sunday, 6 September 2020

بھیگی بھیگی راتوں میں پھر تم آؤ نا

فلمی گیت

بھیگی بھیگی راتوں میں پھر تم آؤ نا
ایسی برساتوں میں آؤ نا
بھیگی بھیگی راتوں میں ۔۔
ایسی برساتوں میں ۔۔

دھڑکنوں میں آ گیا ہے ایک نغمہ تیرے پیار کا
جیسے کوئی سر ملا ہو دل کے تار سے دل کے تار کا
ہلکی ہنسی میں دل کی لگی میں یہ دل گیا
ہمیں کیا ملا ہے تمہیں تو میرا دل مل گیا
لے کے پیار آنکھوں میں آؤ نا
بھیگی بھیگی راتوں میں پھر تم آؤ نا
ایسی برساتوں میں آؤ نا
بھیگی بھیگی راتوں میں ۔۔
ایسی برساتوں میں ۔۔

کچھ دیر تو رک جاؤ برسات کے بہانے

فلمی گیت

کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
کر لیں گے چار باتیں، اسی بات کے بہانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے

اتنی حسین رُت میں تڑپا کے جا رہے ہو
یہ پیار کی گھڑی ہے، کیوں ظلم ڈھا رہے ہو
ہونٹوں پہ آ گئے ہیں، دل کے کئی فسانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
کر لیں گے چار باتیں، اسی بات کے بہانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے

Saturday, 5 September 2020

کٹیں گے روگ کیسے اب یہ سوچو

کٹیں گے روگ کیسے اب یہ سوچو
بسیں گے لوگ کیسے اب یہ سوچو 
جو اس سیل بلا میں بہہ گئی ہیں 
وہ لاشیں بہتے بہتے کہہ گئی ہیں
بچو گے تم بھی کیسے اب یہ سوچو
بنا لو ڈیم، نسلوں کو بچا لو
جو باقی بچ گیا ہے وہ سنبھالو

حکمراں عید پہ یہ قوم سے پیمان کریں

حکمراں عید پہ یہ قوم سے پیمان کریں
عید کے بعد بدل جائیں گے، اعلان کریں
عام لوگوں سے گلے مل کے مٹا دیں وہ گِلے 
ہو یقیں ان کو کہ قربانی کے پائیں گے صلے
تاکہ ہر گھر میں بچا جو ہے وہ قربان کریں
ان وزیروں کے لیے عیش کا سامان کریں

پکڑے گا کون سانپ سپیروں میں دم نہیں

پکڑے گا کون سانپ سپیروں میں دم نہیں
بے غیرتی کا زہر لٹیروں میں کم نہیں
غمخوار کوئی ہم کو اے پروردگار دے
اب آسماں سے کوئی مسیحا اتار دے
وہ حکمران دے جو غضب سے تِرے ڈریں
نادار پر ستم کی نہ جو انتہا کریں

Friday, 21 November 2014

میں روح بے ضمیر ہوں اور بے لباس ہوں

میں رُوحِ بے ضمیر ہوں اور بے لباس ہوں
 دنیا سمجھ رہی ہے حقیقت شناس ہوں
 محدود میری ذات کے محورمیں میری سوچ
 بیدار و ہوشیار، بقیدِ حواس ہوں
مں نے فصیلِ جاہ پہ ڈالی سدا کمند
ہر پُرکشش مقام کے میں آس پاس ہوں

چوراہے پر کھڑا ہوں مجھے ووٹ دیجئے

عرض کیا ہے

چوراہے پر کھڑا ہوں مجھے ووٹ دیجئے
میں مردِ پارسا ہوں مجھے ووٹ دیجئے
مجھ پر فریب و مکر کے الزام تھے غلط
کل ہی رِہا ہوا ہوں مجھے ووٹ دیجئے
آتے ہیں حیلے حربے سیاست کے سب مجھے
تھوڑا پڑھا لکھا ہوں مجھے ووٹ دیجئے