فلمی گیت
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
کر لیں گے چار باتیں، اسی بات کے بہانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
اتنی حسین رُت میں تڑپا کے جا رہے ہو
یہ پیار کی گھڑی ہے، کیوں ظلم ڈھا رہے ہو
ہونٹوں پہ آ گئے ہیں، دل کے کئی فسانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
کر لیں گے چار باتیں، اسی بات کے بہانے
یہ گنگناتی گھڑیاں، پھر آئیں یا نہ آئیں
ایسا نہ ہو، گھٹائیں ساون کی لوٹ جائیں
رہتے نہیں ہمیشہ ساجن سمے سہانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
کر لیں گے چار باتیں، اسی بات کے بہانے
کچھ دیر تو رک جاؤ، برسات کے بہانے
ریاض الرحمٰن ساغر
No comments:
Post a Comment