Showing posts with label ندیم اجمل عدیم. Show all posts
Showing posts with label ندیم اجمل عدیم. Show all posts

Saturday, 17 June 2023

خدا کا شکر میرا دل کسی بہانے لگا

 ستاروں پلکوں پہ معمول سے سجانے لگا

خدا کا شکر، میرا دل کسی بہانے لگا

میں گھر گیا تو مجھے خامشی گلے سے ملی

اور آئینہ تو بس اک جشن سا منانے لگا

یہ حوصلہ ہی مِری جیت تھا کہ تھکنے پر

میں اپنا سر تو کبھی پاؤں خود دبانے لگا

Wednesday, 24 May 2023

مر گئے لوگ سبھی اپنے پرائے گھر کے

 مر گئے لوگ سبھی اپنے پرائے گھر کے

صحن میں رکھتے تھے جو روز صراحی بھر کے

یہ علاقہ تو بیاباں سے بھی بد تر ہے جہاں

آدمی گھر سے نکلتا ہے بہت ڈر ڈر کے

بولنے والوں کی کاٹی ہیں زبانیں کس نے

ان سے مل کر مجھے احوال بتا اندر کے

Friday, 7 October 2022

عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا

 عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا 

عدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیا

وہ اپنا کاندھا بڑھائے تو یاد آتا ہے 

ادھار مانگی ہوئی نیند کیا، خماری کیا

وہاں صدائیں مسلسل دہائی دیتی ہیں 

یہاں کسی کو ضرورت نہیں ہماری کیا

Thursday, 24 March 2022

جو دل کی تہہ سے نکلا ہے اسے دربان چھوڑے

 جو دل کی تہہ سے نکلا ہے اسے دربان چھوڑے

کوئی اس آنکھ سے کہہ دے مِرا مہمان چھوڑے

ابھی مرنے میں دن باقی ہیں سو جی چاہتا ہے

بھلے تاوان لے لے، پر اداسی جان چھوڑے

مجھے کیا آم کے باغوں کی بابت پوچھتے ہو

مجھے مدت ہوئی ہے دوستو! ملتان چھوڑے