ستاروں پلکوں پہ معمول سے سجانے لگا
خدا کا شکر، میرا دل کسی بہانے لگا
میں گھر گیا تو مجھے خامشی گلے سے ملی
اور آئینہ تو بس اک جشن سا منانے لگا
یہ حوصلہ ہی مِری جیت تھا کہ تھکنے پر
میں اپنا سر تو کبھی پاؤں خود دبانے لگا
ستاروں پلکوں پہ معمول سے سجانے لگا
خدا کا شکر، میرا دل کسی بہانے لگا
میں گھر گیا تو مجھے خامشی گلے سے ملی
اور آئینہ تو بس اک جشن سا منانے لگا
یہ حوصلہ ہی مِری جیت تھا کہ تھکنے پر
میں اپنا سر تو کبھی پاؤں خود دبانے لگا
مر گئے لوگ سبھی اپنے پرائے گھر کے
صحن میں رکھتے تھے جو روز صراحی بھر کے
یہ علاقہ تو بیاباں سے بھی بد تر ہے جہاں
آدمی گھر سے نکلتا ہے بہت ڈر ڈر کے
بولنے والوں کی کاٹی ہیں زبانیں کس نے
ان سے مل کر مجھے احوال بتا اندر کے
عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا
عدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیا
وہ اپنا کاندھا بڑھائے تو یاد آتا ہے
ادھار مانگی ہوئی نیند کیا، خماری کیا
وہاں صدائیں مسلسل دہائی دیتی ہیں
یہاں کسی کو ضرورت نہیں ہماری کیا
جو دل کی تہہ سے نکلا ہے اسے دربان چھوڑے
کوئی اس آنکھ سے کہہ دے مِرا مہمان چھوڑے
ابھی مرنے میں دن باقی ہیں سو جی چاہتا ہے
بھلے تاوان لے لے، پر اداسی جان چھوڑے
مجھے کیا آم کے باغوں کی بابت پوچھتے ہو
مجھے مدت ہوئی ہے دوستو! ملتان چھوڑے