عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا
عدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیا
وہ اپنا کاندھا بڑھائے تو یاد آتا ہے
ادھار مانگی ہوئی نیند کیا، خماری کیا
وہاں صدائیں مسلسل دہائی دیتی ہیں
یہاں کسی کو ضرورت نہیں ہماری کیا
زمانہ سنتا ہے رُک کر ہماری باتوں کو
ہمارے سینے میں آواز ہے تمہاری کیا
مِرا پڑاؤ زیادہ نہیں زمانے میں
مِری بلا سے یہ ہوتی ہے دنیا داری کیا
سُنا ہے تم بھی ستائے ہوئے ہو اپنوں کے
تمہارے واسطے آئی نہیں سواری کیا
تمام شہر میں چیخیں سنائی دیتی ہیں
کسی کے ہاتھ میں پھر آ گئی کٹاری کیا
عدیم! رات کی دیوار کا سہارا لیے
اسی طرح سے گزارو گے عمر ساری کیا
ندیم اجمل عدیم
No comments:
Post a Comment