Friday, 7 October 2022

عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا

 عجب سی بات نہیں کہہ گیا مداری کیا 

عدن سے نکلے ہوئے سانپ کو پٹاری کیا

وہ اپنا کاندھا بڑھائے تو یاد آتا ہے 

ادھار مانگی ہوئی نیند کیا، خماری کیا

وہاں صدائیں مسلسل دہائی دیتی ہیں 

یہاں کسی کو ضرورت نہیں ہماری کیا

زمانہ سنتا ہے رُک کر ہماری باتوں کو 

ہمارے سینے میں  آواز ہے تمہاری کیا 

مِرا پڑاؤ زیادہ نہیں زمانے میں 

مِری بلا سے یہ ہوتی ہے دنیا داری کیا 

سُنا ہے تم بھی ستائے ہوئے ہو اپنوں کے

تمہارے واسطے آئی نہیں سواری کیا 

تمام شہر میں چیخیں سنائی دیتی ہیں 

کسی کے ہاتھ میں پھر آ گئی کٹاری کیا 

عدیم! رات کی دیوار کا سہارا لیے 

اسی طرح سے گزارو گے عمر ساری کیا


ندیم اجمل عدیم

No comments:

Post a Comment