ایک دن یہ مسئلہ آخر کو حل ہو جائے گا
کوئی آ کر آپ کا نعم البدل ہو جائے گا
روئیے گا کب تلک آخر کسی کے ہجر میں
ایک دن بارانیوں میں پھر سے، تھل ہو جائے گا
پھر کسی کی مسکراہٹ توڑ دے گی یہ سکوت
پھر کسی آواز سے سب نارمل ہو جائے گا
تیرا کیا جاتا ہے اک پل مسکرانا ہی تو ہے
پر کسی کی زندگی وہ ایک پل ہو جائے گا
کیا زیادہ سے زیادہ مل سکیں گے اپنے دام
نام پر اک چوک یا اک سیریل ہو جائے گا
اس سے یوں کہتا ہوں اک دن بھول جاؤں گا تمہیں
دوستوں سے جیسے کہنا؛ بھائی کل ہو جائے گا
عبدالوہاب عبدل
No comments:
Post a Comment