کوئی حبیب کوئی، مہرباں نہیں ملتا
ہزار لوگوں میں اک ہمزبان نہیں ملتا
ہنسی، ملال، اداسی، قرار، بےچینی
تمہارا لطف و کرم کب، کہاں نہیں ملتا
کسی کی چارہ گری نے بھرے یوں زخمِ جگر
کہ ڈھونڈنے سے اب ان کا نشاں نہیں ملتا
اکیلی اپنے دکھوں پر میں کب تلک روؤں
ہزار غم ہیں مگر نوحہ خواں نہیں ملتا
خلوص و پیار ملا ہے کبھی تو بِن مانگے
' جہاں اُمید ہو اس کی، وہاں نہیں ملتا''
ہم اپنے چہرے پہ خوشیوں کو یوں سجاتے ہیں
دُکھوں کی رُت میں بھی رنگِ خزاں نہیں ملتا
تِرے فراق میں جلتا ہے دل جگر شازی
انوکھی آگ ہے اس میں دُھواں نہیں ملتا
شہناز شازی
No comments:
Post a Comment