Showing posts with label عاجز کمال. Show all posts
Showing posts with label عاجز کمال. Show all posts

Sunday, 14 January 2024

نبی کے نام کا صدقہ اتارنے والی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیﷺ کے نام کا صدقہ اتارنے والی

یہ عائشہؓ ہیں نبیﷺ کو پکارنے والی

سہاری جائے گی محشر میں آبِ کوثر پر

حضورؐ کو دمِ رحلت سہارنے والے والی

حدیث و مصحف ربی تِرے رہین رہے

صحابیوںؓ کے ہُنر کو نکھارنے والی

Sunday, 10 April 2022

اس کی آواز کا یوں لطف لیا جاتا ہے

 اس کی آواز کا یوں لطف لیا جاتا ہے 

جیسے شادی میں کوئی گیت سنا جاتا ہے

سرحدی گاؤں کے جیسی ہے محبت اس کی 

اتنے خطرات میں رہ کے بھی جیا جاتا ہے

وقت رخصت یہ کہا اس نے؛ سدا خوش رہنا

جیسے آندھی میں کوئی دیپ جلا جاتا ہے

Tuesday, 22 June 2021

عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا

 عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا

تُو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا

بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی

پھر تو تُو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا

رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا

ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا

Saturday, 12 December 2020

یوں عکس ترے حسن کی تحویل سے نکلے

 یوں عکس ترے حسن کی تحویل سے نکلے

جس طرح کوئی چاند کسی جھیل سے نکلے

تجھ کو نہ مرا کرب سمجھ آئے گا چاہے

مفہوم مرے شعر کا انجیل سے نکلے

آہوں کو مری لفظ اگر دیں تو گماں ہے

مضمون غم دہر کا تفصیل سے نکلے

Friday, 11 December 2020

کرب میں آنکھ سے بہتا ہوا نم قیمتی ہے

 کرب میں آنکھ سے بہتا ہوا نم قیمتی ہے

زندگی تیرے بیابان میں غم قیمتی ہے

شاعری دھول نہیں ہے کہ اڑا دی جائے

قافیہ وار سہولت کا ردھم قیمتی ہے

جتنی قیمت ہے ترے سامنے خوش رہنے کی

اس سے کچھ بڑھ کے مرا رنج و الم قیمتی ہے

Thursday, 10 December 2020

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

 جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود

اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں

میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود

اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ

پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود

Monday, 7 December 2020

نظمیں چھپنے لگیں رسالوں میں

 نظمیں چھپنے لگیں رسالوں میں

رنج شامل ہوئے حوالوں میں

تھی ضرورت جہاں وہاں سے دور

دیپ جلتے رہے اجالوں میں

آخری بار اس سے ملنا ہے

ریت سی پڑ گئی نوالوں میں

Sunday, 6 December 2020

چل پڑی کیسی ہوا آپ نہیں سمجھیں گے

 چل پڑی کیسی ہوا آپ نہیں سمجھیں گے

کون ہے کس کا خدا آپ نہیں سمجھیں گے

میں سمجھتا تھا سمجھتا ہوں سبھی غم اس کے

پھر مجھے اس نے کہا؛ آپ نہیں سمجھیں گے

بے سکونی میں اداسی کا سمندر مل کر

دل مرا کیسے بنا، آپ نہیں سمجھیں گے