عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیﷺ کے نام کا صدقہ اتارنے والی
یہ عائشہؓ ہیں نبیﷺ کو پکارنے والی
سہاری جائے گی محشر میں آبِ کوثر پر
حضورؐ کو دمِ رحلت سہارنے والے والی
حدیث و مصحف ربی تِرے رہین رہے
صحابیوںؓ کے ہُنر کو نکھارنے والی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیﷺ کے نام کا صدقہ اتارنے والی
یہ عائشہؓ ہیں نبیﷺ کو پکارنے والی
سہاری جائے گی محشر میں آبِ کوثر پر
حضورؐ کو دمِ رحلت سہارنے والے والی
حدیث و مصحف ربی تِرے رہین رہے
صحابیوںؓ کے ہُنر کو نکھارنے والی
اس کی آواز کا یوں لطف لیا جاتا ہے
جیسے شادی میں کوئی گیت سنا جاتا ہے
سرحدی گاؤں کے جیسی ہے محبت اس کی
اتنے خطرات میں رہ کے بھی جیا جاتا ہے
وقت رخصت یہ کہا اس نے؛ سدا خوش رہنا
جیسے آندھی میں کوئی دیپ جلا جاتا ہے
عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا
تُو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا
بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی
پھر تو تُو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا
رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا
ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا
یوں عکس ترے حسن کی تحویل سے نکلے
جس طرح کوئی چاند کسی جھیل سے نکلے
تجھ کو نہ مرا کرب سمجھ آئے گا چاہے
مفہوم مرے شعر کا انجیل سے نکلے
آہوں کو مری لفظ اگر دیں تو گماں ہے
مضمون غم دہر کا تفصیل سے نکلے
کرب میں آنکھ سے بہتا ہوا نم قیمتی ہے
زندگی تیرے بیابان میں غم قیمتی ہے
شاعری دھول نہیں ہے کہ اڑا دی جائے
قافیہ وار سہولت کا ردھم قیمتی ہے
جتنی قیمت ہے ترے سامنے خوش رہنے کی
اس سے کچھ بڑھ کے مرا رنج و الم قیمتی ہے
جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود
رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود
اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں
میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود
اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ
پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود
نظمیں چھپنے لگیں رسالوں میں
رنج شامل ہوئے حوالوں میں
تھی ضرورت جہاں وہاں سے دور
دیپ جلتے رہے اجالوں میں
آخری بار اس سے ملنا ہے
ریت سی پڑ گئی نوالوں میں
چل پڑی کیسی ہوا آپ نہیں سمجھیں گے
کون ہے کس کا خدا آپ نہیں سمجھیں گے
میں سمجھتا تھا سمجھتا ہوں سبھی غم اس کے
پھر مجھے اس نے کہا؛ آپ نہیں سمجھیں گے
بے سکونی میں اداسی کا سمندر مل کر
دل مرا کیسے بنا، آپ نہیں سمجھیں گے