یوں عکس ترے حسن کی تحویل سے نکلے
جس طرح کوئی چاند کسی جھیل سے نکلے
تجھ کو نہ مرا کرب سمجھ آئے گا چاہے
مفہوم مرے شعر کا انجیل سے نکلے
آہوں کو مری لفظ اگر دیں تو گماں ہے
مضمون غم دہر کا تفصیل سے نکلے
اے کاش تجھے خود پہ یقیں میری طرح ہو
اے کاش تو اشکال کی تشکیل سے نکلے
جس وقت نہ رستہ تھا کسی طور بقا کا
اس وقت ہمی عشق کی زنبیل سے نکلے
وہ شخص مرے قرب کو یوں چھوڑ کے نکلا
جس طرح دھواں ہونٹوں کی تحویل سے نکلے
اک ذات کی مرضی ہو تو یہ بات ہے ممکن
افواج کا مقصد بھی ابابیل سے نکلے
عاجز کمال
No comments:
Post a Comment