Saturday, 12 December 2020

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

چندن سے چکنے شانوں پر مچل اٹھے دو کالے ہیں

جنگل کی یا بازاروں کی دھول اڑی ہے سواگت کو

ہم نے گھر کے باہر جب بھی اپنے پاؤں نکالے ہیں

کیسا زمانہ آیا ہے یہ، الٹی رِیت ہے، الٹی بات

پھولوں کا کانٹے ڈستے ہیں جو ان کے رکھوالے ہیں

گھر کے دکھڑے شہر کے غم اور دیس بدیس کی چنتائیں

ان میں کچھ آوارہ کتے ہیں، کچھ ہم نے پالے ہیں

ایک اسی کو دیکھ نہ پائے ورنہ شہر کی سڑکوں پر

اچھی اچھی پوشاکیں ہیں، اچھی صورت والے ہیں

رات میں دل کو کیا سوجھی ہے اس کے گاؤں کو چلنے کی

جنگل میں چیتے رہتے ہیں، راہ میں ندی نالے ہیں

دونوں کا ملنا مشکل ہے، دونوں ہیں مجبور بہت

اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے میرے پاؤں میں چھالے ہیں


عمیق حنفی

No comments:

Post a Comment