کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی
زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی
نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی
میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی
اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح
میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی
کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی
زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی
نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی
میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی
اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح
میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی
معصوم دیکھنا نہ گنہگار دیکھنا
اس کو بس اپنی برشِ تلوار دیکھنا
اک دن مآلِ دیدۂ بیدار دیکھنا
سردار ہم ہیں، ہم کو سرِ دار دیکھنا
چل جائے کوئی چال نہ عیار دیکھنا
اے اہلِ درد! وقت کی رفتار دیکھنا
منظر اک اور بھی پس منظر لگا مجھے
دیکھا جو آئینہ تو بہت ڈر لگا مجھے
اے یارِ خوش خرام! تکلف نہ کر کہ میں
پتھر ہوں تیری راہ کا، ٹھوکر لگا مجھے
کیا لوچ، کیا سبھاؤ ہے، دے اور گالیاں
لہجہ تِرا تو اور بھی سُندر لگا مجھے
بے گنہ جب بھی سر دار نظر آتے ہیں
اک نئے دور کے آثار نظر آتے ہیں
سرفرازی کے سب آثار نظر آتے ہیں
اہلِ حق دار پہ سردار نظر آتے ہیں
درد مندانِ چمن! آنکھ نہ لگنے پائے
ہم کو شب خون کے آثار نظر آتے ہیں
سلامت عشق، افسانے بہت ہیں
جنوں کی خیر ویرانے بہت ہیں
خِرد مندوں نے چھوڑا ساتھ تو کیا
مِری جاں! تیرے دیوانے بہت ہیں
نہیں ہے گر کوئی اپنا تو کیا غم
خدا کا شکر، بے گانے بہت ہیں