Showing posts with label نعیم حامد علی. Show all posts
Showing posts with label نعیم حامد علی. Show all posts

Saturday, 29 August 2026

کبھی صرصر ہے کبھی باد صبا ہے ساقی

 کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی

زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی

نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی

میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی

اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح

میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی

Saturday, 14 March 2026

معصوم دیکھنا نہ گنہگار دیکھنا

 معصوم دیکھنا نہ گنہگار دیکھنا

اس کو بس اپنی برشِ تلوار دیکھنا

اک دن مآلِ دیدۂ بیدار دیکھنا

سردار ہم ہیں، ہم کو سرِ دار دیکھنا

چل جائے کوئی چال نہ عیار دیکھنا

اے اہلِ درد! وقت کی رفتار دیکھنا

Thursday, 9 January 2025

منظر اک اور بھی پس منظر لگا مجھے

 منظر اک اور بھی پس منظر لگا مجھے

دیکھا جو آئینہ تو بہت ڈر لگا مجھے

اے یارِ خوش خرام! تکلف نہ کر کہ میں

پتھر ہوں تیری راہ کا، ٹھوکر لگا مجھے

کیا لوچ، کیا سبھاؤ ہے، دے اور گالیاں

لہجہ تِرا تو اور بھی سُندر لگا مجھے

Thursday, 12 December 2024

بے گنہ جب بھی سر دار نظر آتے ہیں

 بے گنہ جب بھی سر دار نظر آتے ہیں

اک نئے دور کے آثار نظر آتے ہیں

سرفرازی کے سب آثار نظر آتے ہیں

اہلِ حق دار پہ سردار نظر آتے ہیں

درد مندانِ چمن! آنکھ نہ لگنے پائے

ہم کو شب خون کے آثار نظر آتے ہیں

Sunday, 12 February 2023

سلامت عشق افسانے بہت ہیں

سلامت عشق، افسانے بہت ہیں

جنوں کی خیر ویرانے بہت ہیں

خِرد مندوں نے چھوڑا ساتھ تو کیا

مِری جاں! تیرے دیوانے بہت ہیں

نہیں ہے گر کوئی اپنا تو کیا غم

خدا کا شکر، بے گانے بہت ہیں