Showing posts with label کاشف کاش. Show all posts
Showing posts with label کاشف کاش. Show all posts

Friday, 7 August 2026

اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

 اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو

یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا

چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو

اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے

جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو

Friday, 2 January 2026

یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے

 یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے

ہمارے بیچ میں ہے فاصلہ کہیں کس سے

تمام رات تو الجھ سوار تھی مجھ پر

تبھی میں دیر سے شاید اٹھا کہیں کس سے

ہمارے پاس میں دولت کی ہے کمی شاید

ہر ایک شخص ہے ہم سے جدا کہیں کس سے

Tuesday, 7 January 2025

ہم سے روداد محبت میں خیانت نہ ہوئی

 ہم سے رُودادِ محبت میں خیانت نہ ہوئی

اس سے بچھڑے تو کسی اور سے اُلفت نہ ہوئی

دل میں بستے تھا میرے وہ کبھی دھڑکن کی طرح

بعد اس کے تو مِرے دل کو محبت نہ ہوئی

کس طرح سب کو بتاؤں میں بچھڑنے کا سبب

ضرب ایسی ملی مجھ کو کبھی ہمت نہ ہوئی

Monday, 23 December 2024

چند یادوں کے درمیاں ہو گا

 چند یادوں کے درمیاں ہو گا

تیرا قصہ وہاں بیاں ہو گا

تیرے احساس کا جو جادو ہے

میری غزلوں سے وہ عیاں ہو گا

جس نے روشن کریں میری راتیں

وہ مرا چاند اب کہاں ہو گا

Wednesday, 18 December 2024

دامن زیست غم سے بھر ڈالا

 دامن زیست غم سے بھر ڈالا

بے وفا تجھ سے پیار کر ڈالا

اتنا احساس بن چکا ہوں میں

❤اپنا احساس قتل کر ڈالا

ہم نے ماضی سے رابطہ کر کے

اپنے زخموں کو آج بھر ڈالا