اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو
ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو
یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا
چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو
اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے
جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو
اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو
ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو
یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا
چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو
اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے
جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو
یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے
ہمارے بیچ میں ہے فاصلہ کہیں کس سے
تمام رات تو الجھ سوار تھی مجھ پر
تبھی میں دیر سے شاید اٹھا کہیں کس سے
ہمارے پاس میں دولت کی ہے کمی شاید
ہر ایک شخص ہے ہم سے جدا کہیں کس سے
ہم سے رُودادِ محبت میں خیانت نہ ہوئی
اس سے بچھڑے تو کسی اور سے اُلفت نہ ہوئی
دل میں بستے تھا میرے وہ کبھی دھڑکن کی طرح
بعد اس کے تو مِرے دل کو محبت نہ ہوئی
کس طرح سب کو بتاؤں میں بچھڑنے کا سبب
ضرب ایسی ملی مجھ کو کبھی ہمت نہ ہوئی
چند یادوں کے درمیاں ہو گا
تیرا قصہ وہاں بیاں ہو گا
تیرے احساس کا جو جادو ہے
میری غزلوں سے وہ عیاں ہو گا
جس نے روشن کریں میری راتیں
وہ مرا چاند اب کہاں ہو گا
دامن زیست غم سے بھر ڈالا
بے وفا تجھ سے پیار کر ڈالا
اتنا احساس بن چکا ہوں میں
❤اپنا احساس قتل کر ڈالا
ہم نے ماضی سے رابطہ کر کے
اپنے زخموں کو آج بھر ڈالا