کوکب سب افلاک میں گُم
صوفی رُوحِ پاک میں گم
کھنڈر ہوئی ہر اونچی حویلی
پھر بھی اونچی ناک میں گم
حُسن ہے ساتھ حجابوں ہی کے
ہر منظرِ بے باک میں گم
سوادِ لہُو میں عشق مگن ہے
جیسے رفوگر چاک میں گم
شعلہ اُٹھتے سب نے دیکھا
راکھ ہوئے تو خاک میں گم
یوں تو گردش میں ہانی ہے
ظرفِ سفالِ چاک میں گم
ام ہانی
رخسانہ نکہت لاری
No comments:
Post a Comment