دیکھ کر بام و در کا سناٹا
بول اٹھتا ہے گھر کا سناٹا
اے محبت اک آخری آواز
پھر تو ہے عمر بھر کا سناٹا
کوئی صورت نہ کوئی آئینہ
دیدنی ہے نظر کا سناٹا
دیکھ کر بام و در کا سناٹا
بول اٹھتا ہے گھر کا سناٹا
اے محبت اک آخری آواز
پھر تو ہے عمر بھر کا سناٹا
کوئی صورت نہ کوئی آئینہ
دیدنی ہے نظر کا سناٹا
لوگ جام و سبو میں کھوئے رہے
ہم تِری آرزو میں کھوئے رہے
زندگی کی تھی جستجو ہم کو
عمر بھر جستجو میں کھوئے رہے
محفلِ رنگ و بُو تو مل نہ سکی
خواہشِ رنگ و بُو میں کھوئے رہے
تِرے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری
گزر رہی ہے سلیقے سے زندگی میری
کبھی جو ذرۂ خاکی کا کوئی ذکر چھڑا
نگاہ اٹھ کے ستاروں پہ جم گئی میری
یہ اور بات کہ جینے کا لطف آ نہ سکا
تِرے بغیر بھی گزری ہے زندگی میری
حجاب کوئی نہیں ہے، نقاب کوئی نہیں
مِری کھلی ہوئی آنکھوں میں خواب کوئی نہیں
ہے بس سکوں ہی سکوں اضطراب کوئی نہیں
اس انقلاب کے بعد انقلاب کوئی نہیں
حیاتِ عشق میں یہ وقفۂ سکوں کیسا
سوال کوئی نہیں ہے جواب کوئی نہیں
جو ایک پل کو بجھے بزم رنگ و بو کے چراغ
تو ہم نے دار پہ روشن کئے لہو کے چراغ
ہوائے تیرہ نسب کیا بجھا سکے گی انہیں
کہ آندھیوں میں بھی جلتے ہیں آرزو کے چراغ
ادائے موسم گل کا کمال کیا کہیئے
کلی کلی سے فروزاں ہوئے نمو کے چراغ
محبت جاگ اٹھی رگ رگ میں ارمانوں کو نیند آئی
حقیقت نے نقاب اُلٹی تو افسانوں کو نیند آئی
چھلکتی ہی رہی مے🍷 دور چلتا ہی رہا، لیکن
رُکی گردش ان آنکھوں کی تو پیمانوں کو نیند آئی
بچھے تھے پھول بھی ہر موڑ پر فصلِ بہاراں میں
مگر آئی تو کانٹوں پر ہی دیوانوں کو نیند آئی