Showing posts with label عبدالقوی ضیا. Show all posts
Showing posts with label عبدالقوی ضیا. Show all posts

Wednesday, 6 April 2022

دیکھ کر بام و در کا سناٹا

 دیکھ کر بام و در کا سناٹا

بول اٹھتا ہے گھر کا سناٹا

اے محبت اک آخری آواز

پھر تو ہے عمر بھر کا سناٹا

کوئی صورت نہ کوئی آئینہ

دیدنی ہے نظر کا سناٹا

Monday, 28 February 2022

لوگ جام و سبو میں کھوئے رہے

 لوگ جام و سبو میں کھوئے رہے

ہم تِری آرزو میں کھوئے رہے

زندگی کی تھی جستجو ہم کو

عمر بھر جستجو میں کھوئے رہے

محفلِ رنگ و بُو تو مل نہ سکی

خواہشِ رنگ و بُو میں کھوئے رہے

Saturday, 12 February 2022

ترے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری

 تِرے غموں سے عبارت ہے اب خوشی میری

گزر رہی ہے سلیقے سے زندگی میری

کبھی جو ذرۂ خاکی کا کوئی ذکر چھڑا

نگاہ اٹھ کے ستاروں پہ جم گئی میری

یہ اور بات کہ جینے کا لطف آ نہ سکا

تِرے بغیر بھی گزری ہے زندگی میری

Wednesday, 19 January 2022

حجاب کوئی نہیں ہے نقاب کوئی نہیں

 حجاب کوئی نہیں ہے، نقاب کوئی نہیں

مِری کھلی ہوئی آنکھوں میں خواب کوئی نہیں

ہے بس سکوں ہی سکوں اضطراب کوئی نہیں

اس انقلاب کے بعد انقلاب کوئی نہیں

حیاتِ عشق میں یہ وقفۂ سکوں کیسا

سوال کوئی نہیں ہے جواب کوئی نہیں

Monday, 17 January 2022

جو ایک پل کو بجھے بزم رنگ و بو کے چراغ

 جو ایک پل کو بجھے بزم رنگ و بو کے چراغ

تو ہم نے دار پہ روشن کئے لہو کے چراغ

ہوائے تیرہ نسب کیا بجھا سکے گی انہیں

کہ آندھیوں میں بھی جلتے ہیں آرزو کے چراغ

ادائے موسم گل کا کمال کیا کہیئے

کلی کلی سے فروزاں ہوئے نمو کے چراغ

Saturday, 15 January 2022

محبت جاگ اٹھی رگ رگ میں ارمانوں کو نیند آئی

 محبت جاگ اٹھی رگ رگ میں ارمانوں کو نیند آئی

حقیقت نے نقاب اُلٹی تو افسانوں کو نیند آئی

چھلکتی ہی رہی مے🍷 دور چلتا ہی رہا، لیکن

رُکی گردش ان آنکھوں کی تو پیمانوں کو نیند آئی

بچھے تھے پھول بھی ہر موڑ پر فصلِ بہاراں میں

مگر آئی تو کانٹوں پر ہی دیوانوں کو نیند آئی