Wednesday, 6 April 2022

دیکھ کر بام و در کا سناٹا

 دیکھ کر بام و در کا سناٹا

بول اٹھتا ہے گھر کا سناٹا

اے محبت اک آخری آواز

پھر تو ہے عمر بھر کا سناٹا

کوئی صورت نہ کوئی آئینہ

دیدنی ہے نظر کا سناٹا

لکھ رہی ہے سحر کے ماتھے پر

رات اپنے سفر کا سناٹا

کیا یہی ہے اڑان کا موسم

عام ہے بال و پر کا سناٹا


عبدالقوی ضیا

No comments:

Post a Comment