Showing posts with label آفتاب عارض. Show all posts
Showing posts with label آفتاب عارض. Show all posts

Sunday, 30 March 2025

ہمیں محبت کرنے کا کوئی حق نہیں

 ہمیں محبت کرنے کا کوئی حق نہیں 

کھانے کا بل ادا کرتے وقت

روٹیوں کی تعداد پوچھنے والوں کو محبت نہیں کرنی چاہیے

ہماری عمر میں محبت کرنے والوں کے لیے 

خودکشی مستحب ہے

لیکن ہمیں کسی کی آنکھوں کی بجائے

Saturday, 29 May 2021

یہیں پہ ختم نہیں ہوتی ہے کہانی مری

 یہیں پہ ختم نہیں ہوتی ہے کہانی مِری

اب اس کے بعد مسلسل ہے بے زبانی مری

وہ تھوڑی دیر مِرا صبر آزمائے گا

بڑھا رہا ہے ابھی پیاس یار جانی مری

عجیب بات تو یہ ہے تو مجھ کو یاد رہا

کہ بھول جانے کی عادت تو ہے پرانی مری

Thursday, 4 February 2021

ہمارے جیسا کوئی بد حواس دیکھا ہے

 ہمارے جیسا کوئی بد حواس دیکھا ہے

شراب چوم کے ہم نے گلاس دیکھا ہے

تم اس کو جھوٹ سمجھنا مگر تصور میں

ہزار بار تمہیں بے لباس دیکھا ہے

نہ جنگلوں نہ بیابانوں میں نظر آیا

جو آج شہر میں خوف و ہراس دیکھا ہے

Monday, 1 February 2021

دل سے اٹھتا ہے دھواں رقص شرر ختم ہوا

 دل سے اٹھتا ہے دھواں رقصِ شرر ختم ہوا

اُس سے دکھ درد کا رشتہ تھا مگر ختم ہوا

آخرش ٹوٹ گری سر پہ لٹکتی🗡 تلوار

آج سے تیرے بچھڑ جانے کا ڈر ختم ہوا

گھر بناتے تھے دلوں میں کبھی ہم خانہ بدوش

اب تو لگتا ہے کہ وہ سارا ہنر ختم ہوا

Friday, 29 January 2021

اب تک تم کو دیکھ رہا تھا رنگوں کے پیرائے میں

 اب تک تم کو دیکھ رہا تھا رنگوں کے پیرائے میں

تم تو سچ مچ ایک مجسم نظم ہو میری رائے میں

اپنی جانب کھینچ رہے ہیں مجھ ایسے درویش کو بھی

ایسی پراسرار کشش ہے، عورت اور سرمائے میں

چھونے سے اک بھید کھُلا ہے ایک کھُلا ہے چکھنے سے

دو قدریں تو اک جیسی ہیں، تجھ میں اور اس چائے میں

Sunday, 6 December 2020

خوف تھا بلا کا اور رات کافی سردی تھی

 خوف تھا بلا کا، اور رات کافی سردی تھی

میں نے اپنے سینے پر اک کتاب دھر دی تھی

خواب خواب لگتا ہے اب مجھے ہر اک منظر

اس نے میری آنکھوں میں اتنی نیند بھر دی تھی

کل اداس دیکھا تھا میں نے پہلی بار اس کو

دھوپ جیسے چہرے پر شام جیسی زردی تھی

Saturday, 21 November 2020

اسی لیے تو کشش رکھتی ہے زمیں مرے دوست

 اسی لیے تو کشش رکھتی ہے زمیں مرے دوست

وہ ایک شخص ہوا ہے یہاں مکیں مرے دوست

ہم ایسے لوگوں پہ اول تو فلمیں بنتی نہیں

بنیں تو ہوتے نہیں ان کے ناظریں مرے دوست

میں تیری آنکھیں نہیں، پلکیں ہی بنا پایا

جو دیکھتا ہے وہ کہتا ہے آفریں مرے دوست