ہمیں محبت کرنے کا کوئی حق نہیں
کھانے کا بل ادا کرتے وقت
روٹیوں کی تعداد پوچھنے والوں کو محبت نہیں کرنی چاہیے
ہماری عمر میں محبت کرنے والوں کے لیے
خودکشی مستحب ہے
لیکن ہمیں کسی کی آنکھوں کی بجائے
ہمیں محبت کرنے کا کوئی حق نہیں
کھانے کا بل ادا کرتے وقت
روٹیوں کی تعداد پوچھنے والوں کو محبت نہیں کرنی چاہیے
ہماری عمر میں محبت کرنے والوں کے لیے
خودکشی مستحب ہے
لیکن ہمیں کسی کی آنکھوں کی بجائے
یہیں پہ ختم نہیں ہوتی ہے کہانی مِری
اب اس کے بعد مسلسل ہے بے زبانی مری
وہ تھوڑی دیر مِرا صبر آزمائے گا
بڑھا رہا ہے ابھی پیاس یار جانی مری
عجیب بات تو یہ ہے تو مجھ کو یاد رہا
کہ بھول جانے کی عادت تو ہے پرانی مری
ہمارے جیسا کوئی بد حواس دیکھا ہے
شراب چوم کے ہم نے گلاس دیکھا ہے
تم اس کو جھوٹ سمجھنا مگر تصور میں
ہزار بار تمہیں بے لباس دیکھا ہے
نہ جنگلوں نہ بیابانوں میں نظر آیا
جو آج شہر میں خوف و ہراس دیکھا ہے
دل سے اٹھتا ہے دھواں رقصِ شرر ختم ہوا
اُس سے دکھ درد کا رشتہ تھا مگر ختم ہوا
آخرش ٹوٹ گری سر پہ لٹکتی🗡 تلوار
آج سے تیرے بچھڑ جانے کا ڈر ختم ہوا
گھر بناتے تھے دلوں میں کبھی ہم خانہ بدوش
اب تو لگتا ہے کہ وہ سارا ہنر ختم ہوا
اب تک تم کو دیکھ رہا تھا رنگوں کے پیرائے میں
تم تو سچ مچ ایک مجسم نظم ہو میری رائے میں
اپنی جانب کھینچ رہے ہیں مجھ ایسے درویش کو بھی
ایسی پراسرار کشش ہے، عورت اور سرمائے میں
چھونے سے اک بھید کھُلا ہے ایک کھُلا ہے چکھنے سے
دو قدریں تو اک جیسی ہیں، تجھ میں اور اس چائے میں
خوف تھا بلا کا، اور رات کافی سردی تھی
میں نے اپنے سینے پر اک کتاب دھر دی تھی
خواب خواب لگتا ہے اب مجھے ہر اک منظر
اس نے میری آنکھوں میں اتنی نیند بھر دی تھی
کل اداس دیکھا تھا میں نے پہلی بار اس کو
دھوپ جیسے چہرے پر شام جیسی زردی تھی
اسی لیے تو کشش رکھتی ہے زمیں مرے دوست
وہ ایک شخص ہوا ہے یہاں مکیں مرے دوست
ہم ایسے لوگوں پہ اول تو فلمیں بنتی نہیں
بنیں تو ہوتے نہیں ان کے ناظریں مرے دوست
میں تیری آنکھیں نہیں، پلکیں ہی بنا پایا
جو دیکھتا ہے وہ کہتا ہے آفریں مرے دوست