ہمارے جیسا کوئی بد حواس دیکھا ہے
شراب چوم کے ہم نے گلاس دیکھا ہے
تم اس کو جھوٹ سمجھنا مگر تصور میں
ہزار بار تمہیں بے لباس دیکھا ہے
نہ جنگلوں نہ بیابانوں میں نظر آیا
جو آج شہر میں خوف و ہراس دیکھا ہے
تمہارے بعد یہاں ٹھہرے پانیوں کے سوا
اک آئینہ ہے جسے غم شناس دیکھا ہے
وہی تھا ذرۂ کم شوخ میری مٹی کا
وہ جس کو تم نے ستاروں کے پاس دیکھا ہے
مسافروں پہ رکاوٹ بنے درختوں کا
ہوا کے سامنے عجز و سپاس دیکھا ہے
کھلی کتاب ہے عارض مگر نہیں آساں
ابھی تو تم نے مِرا اقتباس دیکھا ہے
آفتاب عارض
No comments:
Post a Comment