Thursday, 4 February 2021

ہمارے جیسا کوئی بد حواس دیکھا ہے

 ہمارے جیسا کوئی بد حواس دیکھا ہے

شراب چوم کے ہم نے گلاس دیکھا ہے

تم اس کو جھوٹ سمجھنا مگر تصور میں

ہزار بار تمہیں بے لباس دیکھا ہے

نہ جنگلوں نہ بیابانوں میں نظر آیا

جو آج شہر میں خوف و ہراس دیکھا ہے

تمہارے بعد یہاں ٹھہرے پانیوں کے سوا

اک آئینہ ہے جسے غم شناس دیکھا ہے

وہی تھا ذرۂ کم شوخ میری مٹی کا

وہ جس کو تم نے ستاروں کے پاس دیکھا ہے

مسافروں پہ رکاوٹ بنے درختوں کا

ہوا کے سامنے عجز و سپاس دیکھا ہے

کھلی کتاب ہے عارض مگر نہیں آساں

ابھی تو تم نے مِرا اقتباس دیکھا ہے


آفتاب عارض

No comments:

Post a Comment