Thursday, 4 February 2021

لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا

 لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا

میں بھی اندر سے نیا ہونے لگا

شدت غم نے حدیں سب توڑ دیں

ضبط کا منظر ہوا ہونے لگا

پھر نئے ارمان شاخوں کو ملے

پتہ پتہ پھر ہرا ہونے لگا

رات کی سرحد یقیناً آ گئی

جسم سے سایا جدا ہونے لگا

میں ابھی تو آئینے سے دور ہوں

میرا باطن کیوں خفا ہونے لگا

دانش اب تیروں کی زد میں آ گیا

زندگی سے سامنا ہونے لگا


سرفراز دانش

No comments:

Post a Comment