Thursday, 4 February 2021

زمیں پر برگ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا

چمن میں وہ فراموشی کا موسم تھا میں خود کو بھی

زمیں پر برگِ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا

ابھی اک نسبتِ دار و رسن کا قرض باقی ہے

فرازِ جاہ و منصب سے اتر آیا تو یاد آیا

بھلایا گردش ایام نے دستِ پدر یوں تو

مگر جب موڑ کوئی پر خطر آیا تو یاد آیا

کسی کی آنکھ کا تارا ہوا کرتے تھے ہم بھی تو

اچانک شام کا تارا نظر آیا تو یاد آیا

بھرا بازار تھا کچھ جنس جاں کے دام لگ جاتے

شہادت گاہِ دنیا سے گزر آیا تو یاد آیا


علی افتخار جعفری

No comments:

Post a Comment