عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلام اس پہ
تمام نوعِ بشر کے حق میں جو اک دعا ہے
سلام اس پہ
جو اک عطا ہے
خدائے برتر کی نعمتوں میں
ہر ایک نعمت سے جو سوا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سلام اس پہ
تمام نوعِ بشر کے حق میں جو اک دعا ہے
سلام اس پہ
جو اک عطا ہے
خدائے برتر کی نعمتوں میں
ہر ایک نعمت سے جو سوا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہی سب دکھوں کا مداوا کریں گے
انہی کو غمِ جاں سنایا کریں گے
کبھی ان کے روضے پہ آنکھیں ملیں گے
کبھی دُور جا کے پکارا کریں گے
وہ آنسو جو برسوں سے پیتے رہے ہیں
درِ مصطفیٰﷺ پہ بہایا کریں گے
دشمن کے لیے دعا
خدائے برتر
ہماری چیخیں ہمارے سینوں میں جم
گئی ہیں
تمام ساتھی تمام گھائل
ہمارے قاتل بنے ہوئے ہیں
انہیں دکھائیں
ملال
میں نے کتنی آشاؤں سے
پچھلے پہر کو چھپ چھپ اٹھ کر
پھول چنے تھے اپنے گھر کے
پھر کس چاؤ سے اپنی چنری
میں نے رنگی تھی ان پھولوں میں
لوگ کھڑے تھے نیناں کھولے
دور پھیلا ہوا سمندر ہو
جس کے ساحل پہ تُو اکیلا ہو
اور ساحل سے کچھ ذرا ہٹ کے
ایک ننھا سا اجنبی پُل ہو
اور پُل پر کوئی سراپا ہو
جس کے بالوں میں نرم کلیاں ہوں